رسائی کے لنکس

logo-print

جوہری تجربے سے شمالی کوریا کو ’کچھ حاصل نہ ہوگا‘


امریکی صدر نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کے خلاف امریکہ جنوبی کوریا کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اگر شمالی کوریا چوتھا جوہری تجربہ کرتا ہے تو اس کا "سخت جواب" دیا جانا چاہیئے۔

بعض مبصرین اور حکام یہ کہہ چکے ہیں شمالی کوریا آئندہ چند روز میں اپنا چوتھا ایٹمی تجربہ کر سکتا ہے۔

سیول پہنچنے سے قبل جنوبی کوریا کے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں مسٹر اوباما کا کہنا تھا کہ " پیانگ یانگ کو ایک اور جوہری تجربے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکے گا ماسوائے اس کے کہ وہ بین الاقوامی برادری میں خود کو مزید تنہا کر لے گا۔"

دورہ ایشیا کے دوسرے پڑاؤ جنوبی کوریا پہنچنے کے بعد صدر پارک گیئون ہئی کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں مسٹر اوباما نے کہا کہ سیول کے لیے امریکی عزم کبھی ختم نہیں ہوگا اور شمالی کوریا کی اشتعال انگیزی کے خلاف امریکہ جنوبی کوریا کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔

امریکی صدر نے اس موقع پر گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے حادثے میں ہلاک ہونے ولاے بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

جنوبی کوریا کی حکومت خبردار کر چکی ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں شمال اپنی تجربہ گاہ میں ایک اور جوہری تجربہ کرنے کی تیاریاں کر رہا ہے اور اس دعوے کو امریکی تحقیقاتی گروپ کی رپورٹ سے بھی تقویت ملتی ہے۔

جان ہاپکنز اسکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ دی یوایس کوریا انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ سیٹیلائیٹ سے حاصل ہونے والی تازہ ترین تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنی تجربہ گاہ پنگئی ری میں ایسی سرگرمیاں کر رہا ہے جو "غالباً دھماکے کی تیاری ہوسکتی ہے۔"

اس کا کہنا تھا کہ بدھ کو حاصل کی گئی تصاویر میں دیکھا گیا کہ "کمانڈ اینڈ کنٹرول کی گاڑیاں" تجربہ گاہ کے مرکزی حصے میں کھڑی ہیں اور ایسی ہی گاڑیاں فروری 2013ء میں یہاں کھڑی دیکھی گئی تھیں جب شمالی کوریا نے تیسرا ایٹمی تجربہ کیا تھا۔

لیکن انسٹیٹیوٹ نے متنبہ کیا کہ پیانگ یانگ کی قیادت کے غیر متوقع مزاج کے پیش نظر یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اس بار بھی تجربے کے لیے وہی طرز دہرائے گی یا نہیں۔
XS
SM
MD
LG