رسائی کے لنکس

logo-print

صدر کے طور پر اوباما کا پہلا سال اور مسلمان


ب جب کہ صدر اوباما اپنی صدارت کا پہلا سال مکمل کر رہے ہیں، ماہرین نے اس بات کی تعریف کی ہے کہ وہ امریکی اقدار پر قائم ہیں اور دنیا کے مسلمانوں کے دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھو ں نے دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنانے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔ لیکن ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ صدر کو کوئی کمزوری کو دور کرنے کے لیئے اس بات کا انتظار نہیں کرنا چاہیئے کہ کوئی حملہ ہو اور وہ کمزوری ظاہر ہو۔ تفصیل روی کھنہ کی رپورٹ پیش ِ خدمت ہے۔

صدر براک اوباما نے کہا ہے: اکثر یہ ہوتا ہے کہ جذبات کی رو میں اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے سامنے جو مشکل کام ہے وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ اس لمحے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔


اور یہ جنگ اس قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے جس کی کوشش حکام کے بیان کے مطابق، پچیس دسمبر کو نائجیریا کے ایک باشندے نے اس وقت کی جب اس نے ایک امریکی مسافر بردار ہوائی جہاز کو بم سے اڑانا چاہا۔ صدر اوباما نے وعدہ کیا وہ امریکیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے قومی طاقت کے ہر جزو کو استعمال کریں گے۔ سکیورٹی کے بعض ماہرین کہتے ہیں کہ صدر اوباما دہشت گردی کے خلاف جنگ کا موازانہ ملکوں کے درمیان عام روایتی جنگ سے کرنے سے پرہیز کرتے ہیں لیکن انھوں نے اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی اقدامات کیئے ہیں۔ ایسپن انسٹی ٹیوٹ کے کارل اروِن کہتے ہیں: لوگوں کو اس بات کا احساس نہیں ہے کہ صدر نے افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ کے خلاف کوششیں بہت تیز کر دی ہیں۔ ان کے عہدِ صدارت میں بغیر پائلٹ والے ڈرون جہازوں کے حملے واقعی تیز ہو گئے ہیں۔ بہت زیادہ غور و خوض کے بعد، انھوں نے افغانستان میں امریکی فوجوں کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا۔


سٹر اروِن کہتے ہیں کہ صدر اوباما ایک ایسا کام بھی کر رہے ہیں جو ان کے پیشرو نے نہیں کیا تھا۔ وہ یہاں امریکہ میں اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق نائب صدر ڈِک چینی نے مسٹر اوباما پر الزام لگایا ہے کہ وہ یہ تاثر دیتے ہیں جیسے وہ دہشت گرد تنظیمیوں کے خلاف حالتِ جنگ میں نہیں ہیں۔ لیکن پرنسٹن یونیورسٹی کے جیکب شپیِرو کہتے ہیں کہ لفظ جنگ کے استعمال سے در اصل دہشت گرد گروپوں کو مدد ملتی ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: اِس طرح یہ دہشت گرد گروپ عام آبادی کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں گویا وہ بہادر افراد کا ایک عام سا گروپ ہیں جوان کے معاشرے پر ظلم ڈھانے والی ایک عظیم طاقت کے خلاف جد و جہد میں مصروف ہے۔ اس طرح معاشرے میں خوف اور تشویش پھیلانے کی کوششوں میں بھی انہیں مدد ملتی ہے۔


جارج ٹاون یونیورسٹی کے پال پِلر کہتے ہیں کہ اگر یہ جنگ نہیں ہے، تو پھر اوباما انتظامیہ کو چاہیئے کہ وہ اس جدو جہد کی نوعیت کی وضاحت کرے۔ اس بارے میں کُھل کر بحث ہونی چاہیئے کہ دہشت گردی سے حفاظت کے لیے امریکی کیا قیمت ادا کرنے کو تیار ہیں۔ یہ قیمت اپنے نجی امور کے افشا ہونے کی شکل میں، ذاتی آزادی ، سفر کی سہولت کی قربانی، مالی اخراجات یا دوسرے ملکوں جیسے افغانستان میں فوجی کارروائیوں کی شکل میں ہو سکتی ہے۔


امریکن سول لبرٹیز یونین کے مائیکل جرمن کہتے ہیں کہ امریکی عوام یہ بات پوری طرح نہیں سمجھتے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کیا کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اوباما انتظامیہ کی تعریف کی جانی چاہیئے کہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اس نے امریکی اقدار کو قربان نہیں کیا ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: ہماری پالیسیوں اور طریقوں میں امریکی اقدار کی عکاسی ہوتی ہے جن میں رواداری، شفافیت، قانون کی حکمرانی اور صحیح طریقہٴ کار کا احترام شامل ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مضبوط رکھیں گی اور زیادہ بہتر طریقے سے ہماری حفاظت کریں گی، بجائے اس کے کہ ہم ان تمام لوگوں کا نام و نشان مٹانے کی کوشش کریں جو ہماری نظر میں بُرے ہیں۔

کارل اورن ان خیالات سے متفق ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہوائی جہاز کو بم سے اڑانے کی حالیہ ناکام کوشش سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے اوباما انتظامیہ کو مزید کارروائی کرنی چاہیئے۔ سکیورٹی کے ذمے دار عہدے داروں کو کوشش کرنی چاہیئے کہ وہ یہ پتہ چلائیں کہ اگلا حملہ کب اور کہاں ہو سکتا ہے۔


سکیورٹی کے ماہرین یہ بات مانتے ہیں کہ یہ کام آسان نہیں ہے۔ دہشت گردوں کے لیئے اہداف کی کمی نہیں اور وہ اپنی کارروائیوں کے لیے بے شمارطریقے استعمال کر سکتے ہیں۔ سو فیصد سکیورٹی کا حصول ممکن نہیں ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اوباما انتظامیہ اپنی سی پوری کوشش نہ کرے اور مکمل سکیورٹی حاصل کرنے کے مقصد سے دستبردار ہو جائے۔

XS
SM
MD
LG