رسائی کے لنکس

logo-print

ایران جوہری معاہدے کے خلاف قرارداد امریکی سینیٹ میں ناکام


قرارداد پر حتمی رائے شماری روکنے کا مطلب ہے کہ اب صدر اوباما کو جوہری معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے ویٹو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

امریکہ کی سینیٹ میں ڈیمو کریٹک پارٹی کے ارکان نے ایران جوہری معاہدے کے خلاف ریپبلیکن جماعت کی قرار داد پر حتمی رائے شماری کو روک دیا جس سے صدر اوباما کو خارجہ پالیسی میں ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

قرارداد کو رائے شماری کے لیے پیش کرنے کی نا منظوری کا مطلب ہے کہ اب صدر اوباما کو جوہری معاہدے کو کامیاب بنانے کے لیے ویٹو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

معاہدے کی مخالفیں کو اس قرار داد پر رائے شماری شروع کرنے کے لیے 60 ووٹ درکار تھے مگر اس کے حق میں صرف 58 ووٹ ڈالے گئے جب کہ اس اقدام کو مسترد کرنے کے لیے 42 ڈالے گئے۔

رائے شماری سے چند منٹ بعد سینیٹ میں قائد حزب اختلاف ڈیموکریٹک سینیٹر ہیری ریڈ نے کہا کہ ’’سینیٹ نے اپنی آواز بلند کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنے والا تاریخی معاہدہ برقرار رہے گا۔‘‘

صدر اوباما نے رائے شماری کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ یہ ’’سفارت کاری، امریکی قومی سلامتی اور دنیا کی سلامتی کی فتح ہے۔‘‘

مگر سینیٹ میں اکثریتی ریپبلکن پارٹی کے رہنما مچ میکونل نے کہا کہ ’’ڈیموکریٹک سینیٹروں نے ہمارے دور کے سب سے اہم خارجہ پالیسی کے مسئلے پر امریکیوں کو حقیقی معنوں میں رائے دینے سے روکا ہے۔‘‘

رائے شماری سے قبل کئی روز تک جوہری معاہدے پر پُرزور بحث ہوتی رہی کہ کانگریس کو اس سے کس طرح نمٹنا چاہیئے۔

ریپبلکن پارٹی اس معاہدے کی شدید مخالفت کر رہی ہے اور اب تک اس کے کسی رکن نے جوہری معاہدے کی حمایت نہیں کی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایوان نمائندگان اس معاہدے کو مسترد کر دے گا۔

صدر اوباما کہہ چکے تھے کہ اگر کانگریس کے دونوں ایوانوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا تو وہ اس کو ویٹو کر دیں گے جسے منسوخ کرنے کے لیے دونوں ایوانوں کو دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی۔ مگر سینیٹ کی طرف سے معاہدے کے حق میں فیصلے کے بعد اب اس کی ضرورت نہیں۔

XS
SM
MD
LG