رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں 40 فی صد افراد موٹاپے کا شکار


امریکہ میں کئے گئے ایک سرکاری سروے کے مطابق، ہر 10 میں سے 4 امریکی موٹاپے کا شکار ہیں، جب کہ ہر 10 میں سے ایک بہت ہی زیادہ موٹا ہے۔

یہ نتائج سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کی جانب سے سن 2017 سے لیکر سن 2018 کےدرمیان 5000 بالغ افراد پر کئے گئے سروے سے اخذ کئے گئے ہیں۔

جمعرات کے روز اس سروے پر مبنی رپورٹ جاری کی گئی، جس میں ان افراد کے قد اور وزن کو مدِ نظر رکھا گیا۔

سروے سے علم ہوا کہ 42 فیصد افراد موٹاپے کا شکار ہیں، جو شرح سن 2016 سے لیکر 2017 تک کے سروے سے 2 فیصد کی شرح زیادہ ہے۔ نئے سروے میں 9 فیصد سے زیادہ افراد موٹاپے کا شکار ہیں، یہ شرح گزشتہ سروے سے ایک فیصد زیادہ ہے۔

تاہم، ان اضافوں کو عددی اعتبار سے زیادہ اہم نہیں سمجھا جا رہا، وہ اس لئے کہ کہیں نہ کہیں اندازے کی غلطی کا امکان بھی ہے، اور ہو سکتا ہے کہ پرانے سروے کے اعداد ہی درست ہوں۔

سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن سے وابستہ، اس رپورٹ کی مصنفہ سنتھِیا اوجین کا کہنا ہے کہ ایک بات بالکل واضح ہے کہ موٹاپے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نصف صدی قبل، ہر 100 میں سے ایک امریکی موٹاپے کا شکار تھا، جس میں اب دس فیصد اضافہ ہوا ہے؛ جب کہ گزشتہ دو عشروں کے دوران، موٹاپے میں 40 فیصد کی شرح سے اضافہ ہوا ہے۔

جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں موٹاپے کے مرض کے ماہر ڈاکٹر ولیم ڈائیٹز کا کہنا ہے کہ اس سروے سے یہ پتا چلتا ہے کہ اب زیادہ امریکی شوگر، دل کے امراض اور کینسر جیسی بیماریوں کا شکار ہوں گے۔

ڈاکٹر ڈائیٹز کا کہنا تھا کہ زیادہ موٹے افراد کی بڑھتی تعداد کی دیکھ بھال کرنا، ڈاکٹروں کیلئے مشکل تر ہوتا جائے گا۔

سینٹر فار ڈزیز کنٹرول نے ابھی تک نئے سروے میں بچوں اور نوجوانوں میں موٹاپے کے اعداد و شمار جاری نہیں کئے۔ اس رپوٹ کی مصنفہ سنتھِیا اوجین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد شاید اس سال کے اواخر میں سامنے آئیں۔ سن 2015 سے لیکر 2016 تک بچوں میں موٹاپے کی شرح 18.5 فیصد تھی، جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح 6 فیصد تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG