رسائی کے لنکس

logo-print

آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات سمندروں کی گہرائیوں تک


گہرے اور تاریک سمندروں کی تہہ میں بھی جاندار موجود ہیں جو تاریکی میں دیکھنے کے لیے اپنی روشنی خود پیدا کرتے ہیں۔

جنگل کی آگ سے لے کر برف کے تودوں میں دراڑیں پڑنا ایسے موسمیاتی عوامل ہیں، جنہیں موسم میں تبدیلیوں کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا ایک بین الاقوامی گروپ سمندر کی تہہ کے ہزاروں میٹر نیچے یہ پتا چلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے وہاں کیا اثرات پڑ رہے ہیں۔

سمندر کے نیچے اتنی گہرانی میں اس حصے کو مڈ نائٹ زون یعنی نصف شب کی تاریکی کے زون کا نام دیا گیا ہے۔

اس ریسرچ کے لیے سائنس دان بحرہند کی سطح سے 120 میٹر نیچے اپنے تجربات میں مصروف ہیں۔ انہیں امید ہے کہ وہ یہ پتا چلا سکیں گے کہ موسمیاتی تبدیلی آبی حیات کو کس طرح متاثر کر رہی ہے۔

اس سائنسی مہم کے ڈائریکٹر اولیور سٹیڈز کہتے ہیں کہ ہمیں جو پتا ہے وہ یہ ہے کہ ہزاروں میٹر نیچے کوئی روشنی نہیں ہے، لیکن اس گہرائی میں بہت سے جاندار ایسے ہیں جو خود چمکتے ہیں۔ یہ سمندر میں حیاتیاتی تنوع کی آماجگاہ ہے۔

اولیور سٹیڈز برطانوی قیادت میں کام کرنے والے نیکٹن مشن کے سربراہ ہیں۔ اس مشن کے تحت سمندروں کے انتظام اور ان کے تحفظ کے لیے اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں۔ یہ کام ریسرچ میں مدد دینے والی ایک آب دوز سے کیا جاتا ہے۔ اس مشن کا مقصد یہ ہے کہ پانی کی سطح سے نیچے پہاڑوں کا مطالعہ کیا جائے، جہاں حیات کے رنگارنگ نمونے پائے جاتے ہیں۔

پریشر ڈراپ نامی مشن کے سربراہ راب مک کالومو کہتے ہیں کہ سائنس دان سمندر کی تہہ میں 4 ہزار میٹر تک نیچے غوطہ لگاتے ہیں۔ یہاں تقریباً اندھیرا ہوتا ہے۔ اس مقام کو اسی مناسبت سے مڈ نائٹ زون کہا جاتا ہے۔

سائنس دان اپنی تحقیق کے دوران یہ تجزیہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کرہ ارض کی حدت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی تہہ میں موجود ماحولیاتی نظام کو کیا نقصانات پہنچ رہے ہیں۔

نیکٹن مشن کے منسلک ایک سینئر سائنس دان لوسی وڈال کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے یہ اثرات اور نتائج رک نہیں رہے۔ وہ اس صورت میں بھی نہیں رکیں گے، اگر ہم فوری طور پر ماحول میں سے کاربن کے اخراج کو روک بھی دیں۔ لہذا ہمیں ان اعداد و شمار سے، جو سائنس دان جمع کریں گے یقیناً اس بات میں مدد ملے گی کہ ہم یہ جان سکیں اور اس کی پیش گوئی کر سکیں کہ مستقبل میں ایسی کیا تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ آبی حیات کو بیشتر خطرات پانی کی سطح پر تغیرات کی وجہ سے درپیش ہوتے ہیں۔ سائنس دان پیٹرک لاہے کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے یقیناً انسانوں کی اپنی کارگزاریوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ہم ہر جگہ پلاسٹک دیکھتے ہیں۔ ہم جا بجا کوڑا کرکٹ نظر آتا ہے۔ خاص طور پر پلاسٹک کا کچرا تو بہت ملتا ہے۔ اگر یہ زمین پر بکھرا ہوا ہے تو بھلا پانی میں بہہ کر سمندروں میں کیوں نہیں جاتا ہو گا۔

35 دنوں پر مشتمل یہ تحقیقاتی مشن نیکٹن اور سی چیلز اور مالدیپ کی حکومتوں کے درمیان تعاون سے اپنا کام کر رہا ہے۔ دی لمیٹڈ فیکٹر نامی آب و دوز نے جو مشن کا حصہ ہے، پہلے ہی گیارہ ہزار میٹر کی گہرائی کا اپنا سفر مکمل کر لیا ہے۔ یہ گہرائی کوہ ہمالیہ سے زیادہ بنتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG