رسائی کے لنکس

logo-print

داعش سے تکریت کا قبضہ چھڑانے کے لیے عراقی فورسز کی کارروائی


عراق کے وزیراعظم نے کہا کہ یہ "سنی قبائلی جنگجوؤں" کے لیے آخری موقع ہے اور ان کے بقول جنگجوؤں کے لیے عام معافی ہو گی۔

عراق کی سرکاری فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیا نے تکریت سے شدت پسند تنظیم داعش کو نکال باہر کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔

ملک کے وزیراعظم اور کمانڈر انچیف حیدر العبادی نے اتوار کو اس کارروائی کا اعلان کیا اور "تکریت کی آزادی" نامی کوششوں کو دیکھنے کے لیے قریبی شہر سمارا کا دورہ کیا۔

العبادی نے سنی قبائل کے جنگجووں سے مطالبہ کیا کہ وہ داعش کا ساتھ چھوڑ دیں۔

سمارا میں نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ یہ "سنی قبائلی جنگجوؤں" کے لیے آخری موقع ہے اور ان کے بقول جنگجوؤں کے لیے عام معافی ہو گی۔

"میں ان سب کو جنہیں گمراہ کیا گیا یا جنہوں نے غلطی کی ہے کہتا ہوں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور اپنے لوگوں اور اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ مل جائیں تاکہ اپنے شہروں کو آزاد کروایا جا سکے۔"

بتایا جاتا ہے کہ ہزاروں شیعہ ملیشیا کے ارکان، مقامی قبائل اور عراقی فورسز تکریت سے قبضہ چھڑانے کے لیے متحد ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ گھمسان کی لڑائی ہو گی۔

اس شہر پر گزشتہ سال کے وسط سے داعش نے قبضہ کر رکھا ہے۔ تکریت کو شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں ایک کلیدی مقام قرار دیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ اعلیٰ امریکی دفاعی عہدیدار نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں تصدیق کی تھی کہ شیعہ فورسز تکریت میں لڑائی کے لیے منظم ہو رہی ہیں لیکن انھوں نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ یہ لڑائی کب شروع ہو گی۔

XS
SM
MD
LG