رسائی کے لنکس

ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ کس طرح پیش آیا؟

  • صدر ابراہیم رئیسی کے چیف آف اسٹاف کے مطابق صدر کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے بادلوں کے سبب قافلے میں شامل تینوں ہیلی کاپٹروں کو بلندی پر جانے کا حکم دیا تھا۔
  • صدر کا ہیلی کاپٹر تین ہیلی کاپٹروں کے درمیان میں سفر کر رہا تھا جیسے ہی ہیلی کاپٹر بلندی پر گئے تو صدر کا ہیلی کاپٹر غائب ہو گیا، غلام حسین اسماعیلی
  • صدر کے ہیلی کاپٹر سے کئی بار ریڈیو کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن رابطہ نہ ہو سکا، غلام حسین
  • اتوار کی شام ہیلی کاپٹر کریش ہونے کے کئی گھنٹوں بعد پیر کی صبح اس مقام کی نشان دہی ہوئی تھی جہاں ہیلی کاپٹر گرا تھا۔
  • کریش ہونے والے ہیلی کاپٹر میں سوار محمد علی آلِ ہاشم واقعے کے کئی گھنٹے بعد بھی زندہ تھے، غلام حسین

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے چیف آف اسٹاف غلام حسین اسماعیلی نے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے کئی انکشافات کیے ہیں۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’اسلامک ری پبلک نیوز ایجنسی‘ (ارنا) کی ایک رپورٹ کے مطابق غلام حسین اسماعیلی نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں بتایا کہ وہ صدر رئیسی کے قافلے میں شامل تین ہیلی کاپٹروں میں سے ایک میں سوار تھے۔

ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان میں اتوار کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مشرقی آذربائیجان میں تقریب سے واپسی کے لیے صدر رئیسی کے ہیلی کاپٹروں کے قافلے نے دن میں لگ بھگ ایک بجے پرواز کا آغاز کیا۔ اس وقت علاقے کا موسم بالکل معمول کے مطابق تھا۔

ان کے بقول پرواز کے لگ بھگ 45 منٹ کے بعد صدر کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کیپٹن مصطفوی نے دیگر دو ہیلی کاپٹروں کے پائلٹوں کو ہدایت کی کہ وہ مزید بلندی پر چلے جائیں کیوں کہ آگے بادل نظر آ رہے ہیں۔

غلام حسین کے مطابق کیپٹن مصطفوی قافلے کے انچارج تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر کا ہیلی کاپٹر باقی دونوں ہیلی کاپٹروں کے درمیان میں پرواز کر رہا تھا۔ لیکن جب انچارج کیپٹن مصطفوی کے احکام کے مطابق ہیلی کاپٹر بلندی پر گئے تو صدر کا ہیلی کاپٹر اچانک غائب ہو گیا۔

ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت دیگر افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد لوگ ماسکو میں ایرانی سفارت خانے کے باہر پھول رکھ رہے ہیں۔
1/10 ایران کے صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان سمیت دیگر افراد کی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاکت کے بعد لوگ ماسکو میں ایرانی سفارت خانے کے باہر پھول رکھ رہے ہیں۔
ایران کے شمال مغربی علاقے ورزغان کے دُشوار گزار پہاڑی سلسلے میں گرنے والے ہیلی کاپٹر کو پیر کی صبح تلاش کیا گیا۔ امدادی کارکن جائے حادثہ سے ایک ڈیڈ باڈی لے جا رہے ہیں۔
2/10 ایران کے شمال مغربی علاقے ورزغان کے دُشوار گزار پہاڑی سلسلے میں گرنے والے ہیلی کاپٹر کو پیر کی صبح تلاش کیا گیا۔ امدادی کارکن جائے حادثہ سے ایک ڈیڈ باڈی لے جا رہے ہیں۔
شدید دُھند اور خراب موسم میں امدادی کارکن جائے حادثہ پر موجود ہیں۔
3/10 شدید دُھند اور خراب موسم میں امدادی کارکن جائے حادثہ پر موجود ہیں۔
 ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اتوار کو آذربائیجان کی سرحد سے ایران کے شہر تبریز آ رہا تھا۔ 
4/10  ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر اتوار کو آذربائیجان کی سرحد سے ایران کے شہر تبریز آ رہا تھا۔ 
اتوار کو ہیلی کاپٹر لاپتا ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔
5/10 اتوار کو ہیلی کاپٹر لاپتا ہونے کے بعد بڑے پیمانے پر تلاش کا کام شروع کر دیا گیا تھا۔
پیر کی صبح  پہاڑی سلسلے سے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملا جس کے بعد ایرانی حکام نے صدر اور وزیرِ خارجہ سمیت نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ ہلاک شدگان میں ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے گورنر بھی شامل ہیں۔
6/10 پیر کی صبح  پہاڑی سلسلے سے ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملا جس کے بعد ایرانی حکام نے صدر اور وزیرِ خارجہ سمیت نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ ہلاک شدگان میں ایرانی صوبے مشرقی آذربائیجان کے گورنر بھی شامل ہیں۔
حادثے کی جگہ کا تعین ہوتے ہی ایمبولینسز اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی گئی تھیں۔
7/10 حادثے کی جگہ کا تعین ہوتے ہی ایمبولینسز اور امدادی ٹیمیں جائے حادثہ کی جانب روانہ کر دی گئی تھیں۔
حکام کے مطابق علاقے میں مسلسل بارش، دھند اور سردی کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
8/10 حکام کے مطابق علاقے میں مسلسل بارش، دھند اور سردی کی وجہ سے ریسکیو کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
ایرانی حکام نے فورسز اور وزارتِ صحت کے حکام کو بھی جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔
9/10 ایرانی حکام نے فورسز اور وزارتِ صحت کے حکام کو بھی جائے حادثہ پر پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔
وہ منظر جب ایران کے صدر آذربائیجان اور ایران کی سرحد کے قریب ہونے والی تقریب کے بعد روانہ ہو رہے ہیں۔ یہی ہیلی کاپٹر بعد ازاں حادثے کا شکار ہوا۔
10/10 وہ منظر جب ایران کے صدر آذربائیجان اور ایران کی سرحد کے قریب ہونے والی تقریب کے بعد روانہ ہو رہے ہیں۔ یہی ہیلی کاپٹر بعد ازاں حادثے کا شکار ہوا۔
Previous slide
Next slide

غلام حسین اسماعیلی کے مطابق ان کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے لگ بھگ 30 سیکنڈز تک بادلوں کے اوپر پرواز کی تو انہیں محسوس ہوا کہ درمیان میں اڑنے والا صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر نظر نہیں آ رہا جس میں کئی دیگر اعلیٰ حکام بھی سوار تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کے ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دائرے میں چکر لگا کر واپس آئیں گے تاکہ صدر کے ہیلی کاپٹر کو تلاش کر سکیں۔

واضح رہے کہ صدر ابراہیم رئیسی کے تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کا ملبہ ورزقان کے علاقے سے پیر کی صبح ملا تھا۔ حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیرِ خارجہ حسین امیر عبد الہیان، تبریز میں نمازِ جمعہ کے امام اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے نمائندے آیت اللہ آلِ ہاشم، مشرقی آذربائیجان کے گورنر جنرل مالک رحمتی سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

صدر رئیسی کے چیف آف اسٹاف کے بقول بادلوں کے سبب ان کا ہیلی کاپٹر ایک مخصوص حد کے بعد نیچے نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے ان کے ہیلی کاپٹر نے پرواز جاری رکھی اور قریب واقع تانبے کی کانوں کے پاس لینڈ کیا۔

غلام حسین اسماعیلی کے مطابق صدر کے ہیلی کاپٹر سے کئی بار ریڈیو کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ صدر کے ساتھ سوار وزیرِ خارجہ حسین امیر عبد اللہان اور پریذیڈینشل پروٹیکشن یونٹ کے سربراہ سے مسلسل رابطے کے باوجود کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ دیگر دو ہیلی کاپٹروں کے پائلٹ مصطفوی سے مسلسل رابطہ کر رہے تھے۔ لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی دوران سپریم لیڈر کے نمائندے آیت اللہ محمد علی آلِ ہاشم نے کال ریسیو کی اور بتایا کہ ان کا ہیلی کاپٹر وادی میں گر چکا ہے۔

ان کے بقول آیت اللہ محمد علی آلِ ہاشم کی حالت بھی بہتر نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد انہوں نے خود بھی آیت اللہ محمد علی آلِ ہاشم سے رابطہ کیا جس پر انہوں نے بالکل پہلے والا جواب دیا کہ صورتِ حال بہتر نہیں ہے۔

غلام حسین اسماعیلی کے مطابق جب واقعے کے مقام کی نشان دہی ہوئی تو صدر ابراہیم رئیسی اور دیگر افراد کی لاشوں کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا کہ ان کی موت ہیلی کاپٹر کریش ہوتے ہی ہو گئی تھی جب کہ آیت اللہ محمد علی آلِ ہاشم واقعے کے کئی گھنٹے بعد بھی زندہ تھے۔

صدر رئیسی کی ہلاکت کے بعد ایران کی صدارت ان کے اول نائب صدر محمد مخبر کے حوالے کر دی گئی ہے۔

محمد مخبر عبوری صدارت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ آئین کے مطابق اس تین رکنی کونسل میں بھی شامل ہوں گے جو آئندہ 50 روز کے اندر صدارتی انتخاب منعقد کرائے گی۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات کا بھی آغاز کر دیا ہے۔

This item is part of
XS
SM
MD
LG