رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پناہ گزین بچوں کو پاکستان مخالف مواد پڑھانے کی تردید


اسلام آباد میں واقع ایک افغان بستی کے قائم اسکول کے بچے

پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے بچوں کو پڑھائی جانے والی درسی کتب میں مبینہ طور پر پاکستان مخالف مواد کی متعلقہ حکام مزید جانچ کریں گے جب کہ اب تک کی تحقیقات میں ایسی اطلاعات غلط ثابت ہوئی ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کی قانون ساز نعیمہ کشور کی طرف سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریاستوں اور سرحدی امور میں یہ کہا گیا تھا کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ افغان پناہ گزین بستیوں میں بچوں کو مبینہ طور پر پاکستان مخالف مواد پڑھایا جا رہا ہے جس کی تحقیقات کی جانی چاہیئں۔

منگل کو وزارت سرحدی و ریاستی امور کے حکام نے قانون سازوں کو بتایا کہ اس بارے میں ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جنہوں نے مختلف افغان بستیوں میں جا کر وہاں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے زیر انتظام چلنے والے اسکولوں کے نصاب کا جائزہ لیا۔

حکام کے بقول یہ کتابیں وہی تھیں جو ملک کے دیگر اسکولوں میں پڑھائی جا رہی ہیں۔

اسلام آباد کی ایک ایسی ہی بستی میں افغان پناہ گزینوں کے ایک رہنما سید آغا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ایسی اطلاعات کو یکسر مسترد کیا۔

"میں نے تو یہاں پاکستان مخالف کوئی باتیں نہیں دیکھیں۔ سب فضول باتیں ہیں۔ جو بھی کر رہا ہے اللہ اسے ہدایت دے۔ ہم تو پاکستان کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں یہاں رہنے کے لیے جگہ دی ہے تو ہم اس کے خلاف کیوں بات کریں گے۔ یہاں ایک اسکول ہے جس میں ایک سو بچے پڑھتے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے یہاں۔"

قائمہ کمیٹی نے حکام کو آئندہ اجلاس میں دوسری سے چھٹی جماعت تک کی درسی کتب لے کر آنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس معاملے کی مزید تحقیقات کا کہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG