رسائی کے لنکس

logo-print

او آئی سی کا کشمیر کی صورت حال پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار


فائل فوٹو

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے کشمیر کی صورت حال پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

او آئی سی کے جنرل سیکریٹریٹ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کشمیر کو بھارت کے آئین میں آرٹیکل 370 کے تحت حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے کا 5 اگست کا فیصلہ یک طرفہ ہے۔

اعلامیے میں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اسے متنازع علاقہ قرار دیا ہے جس کا حل اقوام متحدہ کے زیرنگرانی رائے شماری ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم نے کشمیر سے کرفیو ختم ، مواصلات کے ذرائع بحال اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرنے پر زور دیا۔

او آئی سی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کو جنوبی ایشیا میں ترقی، امن اور استحکام کی ضمانت قرار دیا۔

خیال رہے کہ بھارت نے پانچ اگست کو اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت ختم کی تھی جس کے بعد ریاست میں سکیورٹی فورسز کے اضافی دستے تعینات کیے گئے اور پوری وادی میں اب تک کرفیو جیسی پابندیاں نافذ ہیں۔ جس میں میڈیا اور اطلاعات پر پابندیاں بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشمیر کی صورت حال پر خصوصی اجلاس بھی ہو چکا ہے جبکہ ان پابندیوں کے خلاف دنیا بھر میں آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

او آئی سی نے تین ہفتے قبل بھی ایک بیان جاری کیا تھا جس میں او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ نے کشمیر کی حالیہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

واضح رہے کہ او آئی سی کا مارچ میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا تھا۔ او آئی سی نے اس تنازع کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کو قرار دیا تھا۔ اس اجلاس سے ایک روز قبل بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کیا تھا۔

خیال رہے کہ کشمیر میں گزشتہ 26 روز سے مختلف علاقوں میں کرفیو اور پابندیاں عائد ہیں۔

جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف احتجاج اور مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:34 0:00

گزشتہ روز بھارت کی برّی فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت کشمیر پہنچے تھے۔ اس دوران وادی میں عائد پابندیوں میں مزید سختی کر دی گئی تھی جب کہ نمازِ جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔

سرینگر کی جامع مسجد اور دیگر بڑی مساجد اور خانقاہوں میں مسلسل چوتھے ہفتے بھی نمازِ جمعہ کے اجتماعات منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

دوسری جانب بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے گورنر ستیہ پال اور بھارتی وزارتِ خارجہ نے دعویٰ کیا تھا کہ وادی میں صورتِ حال تیزی سے معمول پر آرہی ہے۔

یاد رہے کہ جمعہ کے روز ہی پاکستان میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آدھے گھنٹے کا ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔ اس احتجاج کا اعلان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں کیا تھا۔

پاکستان میں کشمیر، کشمیر کی صدائیں
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:04 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG