رسائی کے لنکس

logo-print

صدر اوباماتیل کے اخراج سے پیدا ہونے والے بحران کا جائزہ لیں گے


امریکی صدر براک اوباما اتوار کو جنوب مشرقی ساحلی علاقے کا دورہ کر رہے ہیں جہاں وہ خلیج میکسیکو میں زیرِسمندر ایک کنوئیں سے تیل کے اخراج سے ہونے والے نقصانات اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لیں گے۔

حکام نے کہا ہے کہ گذشتہ دنوں میں سمندر کی سطح پر موجود تیل کے حجم میں تین گناہ اضافہ ہواہے جس سے ایک بڑی ماحولیاتی تباہی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی ساحلوں کی حفاظت کے لیے قائم سکیورٹی فورس ”یو ایس کوسٹ گارڈ“ کے مطابق ہفتے کو سمندر میں طغیانی کے باعث تیل کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کی جانے والی کو ششوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ تیز ہواؤں کی وجہ سے تیل مسلسل ساحل کی جانب بڑھ رہا ہے۔

تیل کا اخراج 20 اپریل کو سمندر کی سطح پر قائم ایک تنصیب میں دھماکے کے بعد شروع ہوا۔ اس حادثے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے روزانہ تقریباً 800,000 لٹر خام تیل سمندر میں خارج ہو رہا ہے۔

کوسٹ گارڈ کے ایک اعلی افسر ایڈمیرل تھڈایلن نے کہا ہے کہ گہرائی زیادہ ہونے کی وجہ سے خارج ہونے والے تیل کی صحیح مقدار کا تعین کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔

سمندر میں بہنے والا تیل ہفتے کے روز امریکہ کی جنوب مشرقی ریاست لوئی زیانا کے ساحل تک پہنچ گیا تھا۔

مسٹر اوباما نے سمندر میں تیل تلاش کرنے کے نئے منصوبوں پر اس وقت تک کام روکنے کی ہدایت کی ہے جب تک کہ حالیہ حادثے کی وجوہات سامنے نہیں آ جاتیں۔

امریکی حکومتی افسران برٹش پیٹرولیم نامی کمپنی، جو کہ متاثرہ کنوئیں کی مالک ہے، پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ تیل کابہاؤ ر وکنے کے لیے مزید اقدام اٹھائے۔

عہدیداران نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ حالیہ حادثہ کی وجہ سے ہونے والی تباہی 1989ء میں الاسکا میں ا یگزون الڈیز (Exxon Aldez) نامی ٹینکر سے بہہ جانے والے تین کڑور 90 لاکھ لٹر تیل کے باعث ہونے والے نقصانات سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG