رسائی کے لنکس

logo-print

سمندری طوفان ایلکس تیل کی صفائی کے لیے خطرہ


امریکی محکمہ موسمیات کے عہدے داروں کاکہناہے کہ خلیج میکسیکو میں اٹھنے والاموسمی طوفان ، برٹش پٹرولیم کمپنی کی بڑے پیمانے پر جاری ان کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو وہ زیر آب کنوئیں سے خارج ہونے والے تیل کو صاف کرنے کے لیے کررہی ہے۔

سمندری طوفانوں سے متعلق قومی مرکز نے کہا ہے کہ موسمی طوفان ایلکس منگل کی شام تک ایک ہری کین کی شکل اختیار کرسکتا ہے، تاہم وہ جس سمت آگے بڑھ رہا ہے ، اس سے وہ تیل خارج کرنے والے کنوئیں سے بہت دور مغرب میں چلاجائے گا۔

امریکی کوسٹل گارڈ ایڈمرل تھین ایلن نے پیر کے روز کہا کہ طوفان سے سمندر میں چار میٹر بلند لہریں پیدا ہورہی ہیں، جس سے تیل کا بہاؤ روکنے کی کوششوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

ایلن نے کہا کہ نئے نظام کی تنصیب سے سمندری پانی سے تیل اکھٹا کیے جانے کی رفتار دگنی سے بڑھ کر تقریباً 53 ہزار بیرل روزانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن تیل کا اخراج روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے منگل کے روز خلیج میکسیکو کے متاثرہ علاقے کا دورہ کررہے ہیں۔

خلیج میکسیکو میں 20 اپریل کو برٹش پڑولیم کے ایک زیر آب کنوئیں میں دھماکے کے بعد تیل کا اخراج شروع ہواتھا۔ اس حادثے میں 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ہزاروں گیلن خام تیل روزانہ خلیج میکسیکو کے پانی میں شامل ہونا شروع ہوگیا تھا۔

تیل کے بڑے پیمانے پر اخراج سے سمندری حیات اور ماہی گیری کی صنعت کو نقصان پہنچنے کے ساتھ ساتھ ساحلی علاقوں کے کاروبار بھی متاثر ہوچکے ہیں۔ برٹش پٹرولیم نے ان کی امداد اور صفائی کی کارروائیوں کے لیے 20 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا ہے۔

پیر کے روز بڑٹش پٹرولیم نے کہا کہ وہ تک صفائی کی سرگرمیوں پر دو ارب 65 کروڑ ڈالر صرف کرچکی ہے۔

XS
SM
MD
LG