رسائی کے لنکس

logo-print

اوکاڑہ: مسیحی قبرستان میں قبروں کی بے حرمتی کس نے کی؟


اوکاڑہ کا مسیحی قبرستان

ضلع اوکاڑہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 10 میں 12 مئی کو مسیحی قبرستان میں قبروں پر نصب صلیب مبینہ طور پر توڑے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

مسیحی برادری کا یہ قبرستان مقامی سینٹ اینتھونی چرچ سے ملحق ہے اور چرچ کا ایک دروازہ قبرستان کی طرف کھلتا ہے۔

ایک مقامی مسیحی رہنما جمیل گلزار نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چک نمبر 10 سے تقریباً دو سے اڑھائی کلومیٹر دور ایک اور گاؤں چک نمبر 3 واقع ہے جس میں مسلمانوں اور مسیحی برادری کے افراد کی آبادی تقریباً برابر ہے۔

جمیل گلزار کے مطابق قبروں کی بے حرمتی کے واقعے سے چند روز قبل چک نمبر 3 میں چرچ کے لیے وقف زمین پر چرچ تعمیر کرنے کی کوشش پر مقامی افراد نے مسیحی برادری کے افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

“ہم نے اِس واقعہ کے خلاف احتجاج کیا اور پولیس کے پاس بھی گئے۔ مسیحی برادری اِس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتی ہے۔ جیسے ہی انھوں نے چرچ کا سنگِ بنیاد رکھنا شروع کیا، تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد کچھ لوگ آئے اور انہوں نے دیواریں گرا دیں اور زمین پر ہل چلا دیا۔"

جمیل گلزار کے مطابق مسیحی برادری جب بھی چرچ تعمیر کرنے کی کوشش کرتی ہے تو قریب کی مسلم آبادی جھگڑا کر کے انہیں روک دیتی ہے۔

سینٹ اینتھونی چرچ کے پادری فادر جیمز بہادر بتاتے ہیں کہ نامعلوم افراد نے مسیحی قبرستان میں 20 کے قریب قبروں پر نصب صلیبیں گرا دی ہیں۔ یہ کس نے کیا اُنہیں کچھ معلوم نہیں۔

پادری جیمز بہادر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسیحی قبرستان میں تقریباً ہر قبر کے سرہانے صلیب کا نشان کتبے کے ساتھ نصب ہوتا ہے جسے قبر کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

پادری فادر جیمز بہادر کے مطابق اِس زمین کا اوکاڑہ کی مقامی عدالت میں مقدمہ بھی چل رہا ہے، لیکن طویل عرصے تک مقدمہ چلنے کے باوجود عدالت کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔

قبر پر نصب اکھاڑی گئی صلیب
قبر پر نصب اکھاڑی گئی صلیب

“چرچ کے ساتھ ملحق ہونے سے اِس قبرستان میں کیمرے نصب ہیں اور مجھے شک ہے کہ واقعہ کی رات کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔ انھیں اس حوالے سے کسی مخصوص فرد یا گروہ پر شک نہیں ہے۔ اس واقعہ کی اطلاع مقامی پولیس کو دے دی گئی تھی”۔

اوکاڑہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اطہر اسماعیل بتاتے ہیں کہ اِس واقعہ کا اوکاڑہ کے کینٹ تھانے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اطہر اسماعیل نے کہا کہ ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس واقعہ میں کون لوگ ملوث ہیں اور ان کا مقصد کیا تھا۔

“ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں جس میں سی سی ٹی وی کیمروں سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔ یہ شر پسند عناصر کی شرارت ہو سکتی ہے، جن کا مقصد فساد پھیلانا ہو سکتا ہے، مگر اُن کی یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس واقعہ کے بعد مسیحی برادری کے پادریوں اور مقامی مساجد کے پیش اماموں نے اکٹھے ہو کر اس واقعہ کی مذمت کی تھی”۔

ڈی پی او اوکاڑہ کے مطابق چک نمبر 10 میں مسیحی برادری کی اکثریت ہے اور وہاں مسلمان بہت تھوڑی تعداد میں آباد ہیں۔ مسلمان اور مسیحی برادری کے لوگ اس گاؤں میں پُرامن طریقے سے رہتے آئے ہیں۔

اطہر اسماعیل بتاتے ہیں کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی تھی اور اوکاڑہ کے تھانہ کینٹ میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا تھا جس میں صلیب کی توہین کرنے کے حوالے سے دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

اطہر اسماعیل کا کہنا تھا کہ مسیحی برادری کے مقامی سربراہان نے کسی پر شبہے کا اظہار نہیں کیا۔ ڈی پی اوکاڑہ کا خیال ہے کہ یہ کسی کی شرارت ہو سکتی ہے جس کا مقصد فساد پھیلانا ہو۔ انہیں توقع ہے کہ جلد ہی اس واقعہ کے ذمہ داران کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG