رسائی کے لنکس

logo-print

10 لاکھ شامی باشندے غذائی قلت کا شکار، اقوامِ متحدہ


اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ شام کے لگ بھگ 10 لاکھ شہری خوراک اور ایندھن کی شدید قلت سے دوچار ہیں

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ شام کے لگ بھگ 10 لاکھ شہری خوراک اور ایندھن کی شدید قلت سے دوچار ہیں اور ملک میں جاری خانہ جنگی کے باعث ان تک امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے غذائی پروگرام کی ترجمان الزبتھ بائرز نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کا ادارہ شام میں ماہانہ 15 لاکھ افراد میں راشن تقسیم کر رہا ہے جن میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہیں تشدد کے باعث اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔

لیکن ان کے بقول اب بھی شام میں تقریباً 10 لاکھ ایسے افراد موجود ہیں جن تک غذائی امداد پہنچانے کی ضرور ت ہے لیکن ملک میں سیکیورٹی کی صورتِ حال اور ایندھن کی شدید قلت کے سبب امدادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ 'ورلڈ فوڈ پروگرام' کی شام میں شریکِ کار تنظیم 'سیرین عرب ریڈ کریسنٹ' اپنی تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لاچکی ہے جس میں مزید اضافہ ممکن نہیں۔ لہذا مزید افراد تک امداد پہنچانے کے لیے عالمی ادارے کو دیگر مقامی غیر سرکاری تنظیموں کا تعاون درکار ہے۔

اقوامِ متحدہ نے شام میں بگڑتی ہوئی صورتِ حال سے متاثر ہونے والے لاکھوں افراد کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کے لیے عالمی برادری سے ڈیڑھ ارب ڈالر کے عطیات دینے کی اپیل کر رکھی ہے۔

لیکن الزبتھ بائرز کے مطابق یہ اپیل غیر موثر رہی ہے اور چند مقامی خیراتی اداروں کے سو کسی بڑی تنظیم یا افراد نے اس ضمن میں اپنا تعاون پیش نہیں کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق شام میں کل 40 لاکھ افراد کو امداد کی فوری ضرورت ہے جن میں سے لگ بھگ 20 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہیں باغیوں اور سرکاری افواج کے مابین جاری لڑائی کے باعث بے گھر ہونا پڑا ہے۔
XS
SM
MD
LG