رسائی کے لنکس

شارلٹس واقعہ کے بعد بعض گروپوں کی آن لائن رسائی محدود


امریکہ کی ریاست ورجینیا کے شہر شارلٹس ول میں گزشتہ ہفتے سفید فام قوم پرستوں اور نیو نازی گروپ کے ''یونائٹ دا رائٹ' نامی احتجاجی مظاہرے کے بعد ان گروپوں کے لیے آن لائن سرگرمیوں کو جاری رکھنا دشوار ہو گیا ہے۔

اس ریلی میں انتہا پسند گروپوں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں۔

اب انتہا پسند سوچ کے حامل دائیں بازو کے افراد کو ان کی ویب سائیٹس سرگرمیوں سے دور رکھا جا رہا ہے یا ان کے لیے ان ویب سائیٹس تک رسائی کو ختم کر دیا گیا ہے۔

جمعرات کو نیو نازی اور سفید فام قوم پرستوں سے منسلک 'ڈیلی اسٹورمر' نامی نیوز ویب سائیٹ جو، گزشتہ ہفتے ہونے والی احتجاج کے منتظمین میں بھی شامل تھی، کو روس کے انٹرنیٹ ڈومین سے خارج کر دیا گیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ اقدام روس میں انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے کی درخواست پر خارج کیا گیا ہے۔

'ڈیلی اسٹورمر' نے اپنی ویب سائیٹ کو فعال رکھنے کے لیے ایک روسی فرم سے سہولت حاصل کی تھی قبل ازیں انہیں امریکہ میں ویب سائیٹ ڈومین کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی یہ سہولت فراہم کرنا بند کر دی تھی۔ جمعرات رات دیر گئے تک ڈیلی اسٹورمر آن لائن پر موجود نہیں تھی۔

اگرچہ ٹیک کمپنیوں پر حکومت کی طرف سے یہ دباؤ تھا کہ وہ ریاست کی معاونت سے کام کرنے والے انتہا پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کریں لیکن اس حوالے سے ان کی طرف سے سنسر کی زیادہ سرگرمی نظر نہیں آتی کہ کون سے افراد ان کی سروسز کو استعمال کرتے ہیں۔

ان کی سروسز کو استعمال کرنے کی شرائط میں آن لائن استعمال کو محدود کرنے کی شرط شامل ہوتی ہے۔

گزشتہ اختتام ہفتے ہونے والے مظاہروں میں تشدد کے بعد عدم مداخلت کی یہ پالیسی تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ اب اس بات کو تسلیم کیا جا رہا ہے کہ انتہا پسند گروپ منظم ہونے کے لیے ڈیجیٹل سروسز کا استعمال کر رہے ہیں۔

لیکن یہ تبدیلی بہت زیادہ تامل کے بعد سامنے آئی ہے۔

ویب ہوسٹن کی سہولت فراہم کرنے والی کلوڈ فلیر نے ڈیلی اسٹورمر کو ویب سائٹ کی سروسز فراہم کرنا بند کر دی تھیں۔ اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو میتھو پرنس نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے لیے یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔

ڈیجیٹل دنیا میں شہری آزادی کے حقوق کے لیے سرگرم غیر منافع بخش تنظیم الیکڑنک فرنٹیئر فاؤنڈیشن (ای ایف ایف) نے ٹیک کمپنیوں کے فیصلے پر تنقید کی۔

اپنے ایک بلاگ پر جاری ایک بیان میں اس تنظیم نے کہا کہ "ہمارا یہ واضح موقف ہے کہ جو کچھ گوڈیڈی، گوگل اور کلوڈ فیر نے کیا وہ خطرناک ہے۔" ای ایف ایف نے مزید کہا کہ "ان کی فیصلے سے دنیا بھر میں اظہار کی (کی آزادی ) پر دورس اثرات ہوں گے۔"

اگرچہ گوگل، گو ڈیڈی اور کلوڈ فلیر نے ڈیلی اسٹورمر کی ویب سائیٹ کے لیے سروسز فراہم کرنا روک دیا لیکن اس کی وجہ سے کئی دیگر انتہا پسند گروپ بھی کئی طرح سے متاثر ہوئے اور ان کے لیے کئی خدمات تک رسائی پر بھی اثر پڑا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG