رسائی کے لنکس

logo-print

تمام آن لائن کلاسز پر نئے انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو امریکی ویزا نہیں ملے گا


انٹرنیسنل اسٹوڈنٹس کا خیرمقدم

امریکی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی طالب علموں پر نئی پابندیاں واپس لینے کے ایک ہفتے کے بعد فیڈرل امیگریشن عہدے داروں نے جمعے کے روز کہا ہے کہ ان بین الاقوامی نئے طالب علموں کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو موسم خزاں کے سیمسٹر میں صرف آن لائن کلاسز میں داخلہ لیں گے۔

کالج کے عہدے داروں کو لکھے گئے ایک خط میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے کہا ہے کہ جن نئے طالب علموں کا 9 مارچ تک اندراج نہیں ہوا تھا، اگر انہوں نے تمام آن لائن کلاسز لیں تو امکان یہ ہے کہ انہیں ویزا نہیں ملے گا۔

اس اعلان سے بنیادی طور پر وہ نئے طالب علم متاثر ہوں گے جو ان یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو کرونا وائرس کی وجہ سے تمام کورسز آن لائن پیش کریں گے۔

اعلان میں بتایا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی طالب علم جو پہلے سے ہی امریکہ میں ہیں یا جن کے پاس امریکی ویزے موجود ہیں اور وہ کلاسز کے لیے واپس آئیں گے، انہیں تمام آن لائن کلاسز لینے کی اجازت ہو گی۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی ایک نئی پالیسی میں کہا گیا تھا کہ ان ہزاروں طالب علموں کو ملک سے بھیج دیا جائے گا جو موسم خزاں کے سیمسٹر میں تمام آن لائن کلاسز لیں گے، چاہے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے یونیورسٹیز نے اپنے تمام کورسز آن لائن ہی کیوں نہ کر دیے ہوں۔

جمعے کے روز نئے حکم میں اس سے قبل 9 مارچ سے متعلق جاری کی جانے والی گائیڈ لائنز کی وضاحت کی گئی ہے، جس کے تحت بین الاقوامی طالب علموں پر پابندی لگائی گئی تھی، کیونکہ یونیورسٹیوں نے کہا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے آیا اس کا اطلاق نئے طالب علموں پر بھی ہو گا یا نہیں۔

امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے اپنے بیان میں وضاحت کی ہے کہ اس کا اطلاق صرف ان طالب علموں پر ہوگا جو 9 مارچ تک کسی امریکی تعلیمی ادارے میں باقاعدہ داخل تھے۔ ہارورڈ اور سدرن کیلی فورنیا سمیت کئی یونیورسٹیوں کو اس بارے میں خدشات تھے جنہوں نے موسم خزاں کے سیمسٹر میں تمام آن لائن کلاسز پیش کیں تھیں۔

یونیورسٹیوں کے صدور پر مشتمل امریکن کونسل آن ایجوکیشن نے کہا ہے کہ انہیں حکومت کی گائیڈ لائنز سے مایوسی ہوئی ہے۔ کونسل کے نائب صدر بریڈ فرنس ورتھ نے کہا ہے کہ ہمیں اس کا ڈر تھا اور ہم اس کے لیے تیار ہو رہے تھے۔ ہم اب بھی مایوس ہیں۔

ہارورڈ یونیورسٹی کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ انہوں نے کانگریس کے عہدے داروں سے کہا ہے کہ مارچ کی گائیڈ لائنز کو نئے طالب علموں تک توسیع دے دیں، لیکن وہ موسم خزاں کے سیمسٹر تک کسی تبدیلی کی توقع نہیں کر رہے۔ نئے طالب علم بیرونی ملکوں سے آن لائن کلاسز لے سکتے ہیں، یا وہ اپنا داخلہ مؤخر کر سکتے ہیں۔

ہارورڈ یونیوسٹی کے انڈر گریجوایٹ اسٹوڈنٹس کے ڈینن راکیش کھرانا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونیورسٹی ایسی کسی پالیسی کو قبول نہیں کرے گی جو ہمارے عہدے داروں کو ہماری کمیونٹی کی صحت اور بین الاقوامی طالب علموں کی تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب کے لیے کہے گی۔

امریکہ بھر کے کالج اور یونیورسٹیاں کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور ویزے کی پابندیوں کے باعث پہلے ہی بیرونی ملکوں سے طالب علموں کی آمد میں نمایاں کمی کی توقع کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ سے ان یونیورسٹوں کے محاصل پر زد پڑے گی جو بھاری فیسیں ادا کرنے والے بین الاقوامی طالب علموں پر انحصار کرتی ہیں۔

سن 2019-2018 کے تعلیمی سال میں گیارہ لاکھ بین الاقوامی طالب علموں نے امریکی تعلیمی اداروں میں داخلہ لیا تھا۔ امریکن کونسل آن ایجوکیشن کا اندازہ ہے کہ اس سال موسم خزاں میں تقریباً ڈھائی لاکھ بین الاقوامی طالب علم امریکہ آئیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG