رسائی کے لنکس

logo-print

کیا آپ سوشل میڈیا کے بے معنی اقوال سے متاثر ہیں؟


فیس بک کے صارفین میں فلسفیانہ اقوال کے ساتھ ساتھ گھڑے گئے بے معنی اقوال کو پسند کرنےکا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔

جس طرح سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے بالکل اسی طرح سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے متاثر کن اقوال کو گہری بات سمجھ کر انھیں لائک کرنا اور شیئر کرنا بھی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔ کم از کم سائنس دانوں کا تو یہی کہنا ہے۔

فیس بک کے صارفین میں فلسفیانہ اقوال کے ساتھ ساتھ گھڑے گئے بے معنی اقوال کو پسند کرنےکا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ لیکن سائنس دانوں کو پتا چلا ہے کہ سوشل میڈیا پر بظاہر دانشورانہ لگنے والے جملوں سے زیادہ وہ لوگ متاثر ہوتے ہیں جو کم ذہین ہیں۔

سائنس دانوں کو اس مطالعے میں فلسفیانہ نظر آنے والے جملوں کو زیادہ پسند کرنے والے صارفین اور کم ذہانت کے درمیان تعلق ملا ہے۔

کینیڈا کے شہر ٹورانٹو کی 'یونیورسٹی آف واٹرلو' سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں کی ٹیم کے مطابق فیس بک یا ٹوئٹر پر فلسفیانہ سوچ کا پرچار کرنے والے بے معنی جملوں کو اقوال زریں سمجھ کر لائک یا شیئر کرنے والے صارفین کم عقل مند اور کم سوچ بچار کرنے والے لوگ تھے۔

ان لوگوں میں سازشی نظریات اور غیر معمولی چیزوں اور متبادل ادویات یا روحانی طریقہ علاج پر یقین کرنے کا امکان بھی زیادہ تھا۔

پی ایچ ڈی محقق پروفیسر گورڈن پینی کوک اور محققین کی ٹیم کی طرف سے شائع ہونے والی تحقیق میں بظاہر دانشورانہ تاثر دینے والے جملوں سے متاثر ہونے والے لوگوں اور کم ذہانت کے درمیان تعلق تلاش کرنے کے لیے سیکڑوں لوگوں پر تجربہ کیا گیا ہے۔

جریدہ 'ججمنٹ اینڈ ڈیسیشین میکنگ' میں شائع ہونے والے مطالعے میں گورڈن پینی کوک نے کہا ہے کہ لوگ فیس بک، انسٹا گرام پر اکثر ایسے بیانات پوسٹ کرتے ہیں جو بظاہر گہری بات نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں یہ صرف رمزیہ جملوں پر مشتمل ایک بے معنی یا مبہم سی تحریر ہوتی ہے۔

اسی طرح سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے بے معنی جملے اور بھی زیادہ بکواس ہوتے ہیں جس کا مفہوم تو ہوتا ہے لیکن یہ جملہ مناسب معانی اور سچائی پر مشتمل نہیں ہوتا ہے۔

اپنے مشاہدے میں محقق پینی کوک نے ایک ویب سائٹ کا استعمال کیا ہے جو الفاظ کو گہرے جملوں میں تبدیل کر سکتی تھی۔

اس تجربے کے دوران 300 شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ ذہانت ظاہر کرنے والے جملوں کی گہرائی سمجھتے ہوئے ان جملوں کی کی درجہ بندی ایک سے پانچ تک کے پیمانے پر نمبر سے ظاہر کریں۔

اس کے علاوہ محققین نے شرکا سے فلسفیانہ اقوال، عام معنوں والے جملوں اور بکواس باتوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے کہا جبکہ محققین نے شرکا کی شخصیت پر بھی تحقیق کی کہ وہ اپنے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اپنی ارد گرد کی دنیا سے کتنا باخبر رہتے ہیں۔

نتائج سے پتا چلا کہ زیادہ لوگوں نے عام جملوں کو پہچان لیا تھا لیکن انھوں نے گھڑے گئے اقوال زریں کی بھارتی نژاد امریکی مصنف اور جدید دنیا میں متبادل طریقہ علاج کے طور پر روحانیت کے گرو مانے جانے والے دیپک چوپڑا کی ٹوئیٹس کی سطح پر درجہ بندی کی۔

تحقیقی پیپر کے نتائج میں محقق پینی کوک نے لکھا ہے کہ جن لوگوں نے بکواس جملوں پر زیادہ ردعمل کا مظاہرہ کیا اور انھیں پسند کیا انھیں کم ذہانت اور کم علمی کا اعلی درجہ دیا گیا جبکہ ان لوگوں میں سازشی نظریات سے متاثر ہونے کا زیادہ امکان تھا۔

نتائج کے مطابق ان لوگوں میں مذہبی عقائد، غیر معمولی چیزوں، متبادل ادویات یا روحانی علاج پر یقین کرنے کا زیادہ امکان تھا۔

XS
SM
MD
LG