رسائی کے لنکس

logo-print

اسمارٹ فون نوجوانوں کو حقیقی دنیا سے دور کر رہا ہے، رپورٹ


اسمارٹ فون کی وجہ سے نوجوانوں کی آن لائن مصروفیات میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی ٹیک آلات کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے فکر مند رہنے لگے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹس جدید ٹیلکنالوجی کےحیرت انگیز انقلاب کا ایک بڑا اہم پہلو ہیں۔ دیکھا جائے تو ورچوئل دنیا کا دامن جس قدر وسیع ہوتا جارہا ہے لوگوں کا حقیقی دنیا کے ساتھ رابطہ اتنا ہی محدود ہورہا ہے۔

خاص طور پر نوجوان نسل کی تمام تر توجہ کا مرکز و محور ان دنوں یہی آن لائن سرگرمیاں بن کر رہی گئی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سوشل میڈیا نوجوانوں کو ان سوشل بنارہا ہے؟

یہ سوال ان دنوں ماہرین کی تحقیق کا ایک اہم موضوع بھی بن چکا ہے۔ ایک نئے سروے سے پتا چلتا ہے کہ اسمارٹ فون کی وجہ سے نوجوانوں کی آن لائن مصروفیات میں اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ والدین اپنے بچوں کی ٹیک آلات کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے فکر مند رہنے لگے ہیں۔

ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا جو ایک طرف تو افراد کو مربوط کرنے، خیالات کا تبادلہ کرنے اور پیغام رسانی کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے، تو دوسری جانب ایک نئی زبان اور ایک نئے رویے کو جنم دینے میں بھی اس کا کردار بہت اہم ہے۔

تاہم اسمارٹ فونز پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس کی موجودگی نے ان دنوں سوشل میڈیا کو مقبول اور تیز رفتار بنانے اور اس کے پھیلاؤ میں بڑی مدد کی ہے لیکن اس رجحان کا سب سے زیادہ اثر نوجوانوں پر دکھائی دیتا ہے۔

برطانوی ماہرین کی جانب سے ایک حالیہ سروے رپورٹ کے نتیجے سے معلوم ہوا ہے کہ شرکا والدین کی نصف تعداد ضرورت سے زیادہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے بچوں کے رویے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

والدین نے بتایا کہ نوجوانوں کا اپنی اس عادت کی وجہ سے نہ صرف حقیقی دنیا میں دوستوں اور خاندان کے ساتھ آمنے سامنے بات چیت کرنے کا رویہ تبدیل ہوتا جارہا ہے بلکہ ان کے برتاؤ میں بھی نمایاں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

'ہیلی فیکس انشورنس ڈیجیٹل ہوم انڈیکس' کے سروے کے مطابق ایک تہائی نوجوانوں نے بتایا کہ وہ ہر ایک گھنٹے میں کئی کئی بار اپنا فون چیک کرتے ہیں جبکہ دو تہائی نوجوان بستر میں ٹیک آلات استعمال کرنے کی عادت میں مبتلا پائے گئے۔

محققین نے 7 سے 17 برس کی عمروں کے 2000 نوجوانوں اور ان کے والدین سے ایک ساتھ سوالنامہ مکمل کرایا۔

مطالعے کے نتیجے سے پتا چلا کہ ایک تہائی - تقریباً 37 فیصد والدین اور ان کے بچے کھانے کی میز پر اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح ایک ہی خاندان کے 30 فیصد لوگ گھر میں ایک دوسرے سے بات چیت کے لیے موبائل فونز استعمال کرتے ہیں۔

تاہم نوجوانوں کی 30 فیصد تعداد کا ماننا ہے کہ ان کی اس عادت کے پیچھے والدین کا بھی ہاتھ ہے جن کی مصروفیات کی وجہ سےانھیں موبائل فون زیادہ استعمال کرنے کی عادت ہوئی۔

تین چوتھائی والدین کی طرف سے بچوں کو موبائل فون بیڈ روم میں لے جانے کی اجازت ہے لیکن صرف 35 فیصد والدین نے کہا کہ وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان کے بچے دن بھر میں کتنی بار ٹیک آلات کا استعمال کرتے ہیں۔

سروے میں شامل نصف سے زائد والدین نےبچوں کی اس عادت کو کنڑول کرنے کے حوالے سے تشویش میں مبتلا پائی گئی جن کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی ٹیک آلات کے استعمال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

نتائج کے مطابق تقریبا 31 فیصد بچے جن کی عمریں 7 سے 8 برس ہیں اپنا ذاتی موبائل فون رکھتے ہیں۔ اسی طرح 9 سے 11 برس کے 63 فیصد بچوں کا اپنا اسمارٹ فون ہے جبکہ 12 سے 14 برس کے نوجوانوں کی 88 فیصد تعداد ذاتی فون کی مالک ہے۔

تعلیمی شعبے سے وابستہ ماہر نفسیات ڈاکٹر کائرن کولن نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی معاصر زندگی کا ایک حصہ ہیں اور قدرتی طور پر اس کی جھلک خاندانوں میں نظر آئے گی لیکن نوجوانوں میں ضرورت سے زیادہ ٹیک آلات کا استعمال ایک بڑی سچائی کے طور پر واضح ہوتا جارہا ہے۔

ڈاکٹر کولن نے مزیدکہا کہ ان دنوں والدین بھی بچوں کی آن لائن مصروفیات کی حمایت کرتے پائے جاتے ہیں جو خود بھی آن لائن فوری پیغام رسانی کو بچوں سے بات چیت کرنے کے لیے متبادل کے طور پر استعمال کرنے لگے ہیں۔

ڈاکٹر کولن کے مطابق مواصلاتی ذرائع کبھی بھی ایک خاندان کے لیے آمنے سامنے بات چیت کا متبادل ثابت نہیں ہو سکتے ہیں۔ لہذا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو محفوظ اور فعال آن لائن سرگرمیوں تک محدوود رکھنے کی حوصلہ افزائی کریں اور خاص طور پر والدین کوشش کریں کہ کھانے کی میز پر سب گھر والوں کے فون آف ہوں۔

XS
SM
MD
LG