رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ: سائبر حملے میں 56 لاکھ ملازمین کے 'فنگر پرنٹس' چوری ہوئے


توقع ہے کہ رواں ہفتے جب صدر براک اوباما اپنے چینی ہم منصب شی جنپنگ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے تو اس میں سائبر حملوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

امریکہ میں لاکھوں ملازمین کی ذاتی معلومات پر ہیکروں کے حملے میں حکام کے مطابق ان ملازمین کی تصاویر اور انگلیوں کے نشانات گزشتہ اندازوں کی نسبت کہیں زیادہ تعداد میں چوری ہوئے۔

آفس آف پرسنیل مینجمنٹ "او پی ایم" کے ایک بیان کے مطابق تفتیش کاروں نے انکشاف کیا ہے کہ پہلے اندازوں کی نسبت پانچ گنا زیادہ معلومات یعنی تقریباً 56 لاکھ ملازمین کی انگلیوں کے نشانات کا ریکارڈ چوری ہوا۔

رواں سال کے اوائل میں کیے گئے ایک سائبر حملے سے لگ بھگ دو کروڑ بیس لاکھ موجودہ و سابقہ ملازمین، ملازمت کے لیے درخواست دینے والوں اور ان کے خاندان سے متعلق معلومات متاثر ہوئی تھیں۔

امریکی تفتیش کاروں نے صحافیوں کو اپنے طور پر بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ اس حملے کی ذمہ دار مبینہ طور پر چین کی حکومت ہے، لیکن حکام نے تاحال کھلے عام یہ الزام عائد نہیں کیا۔

توقع ہے کہ رواں ہفتے جب صدر براک اوباما اپنے چینی ہم منصب شی جنپنگ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے تو اس میں سائبر حملوں کا معاملہ بھی اٹھائیں گے۔

اوباما انتظامیہ سائبر حملوں خصوصاً تجارتی راز چوری کرنے کا ذمہ دار مبینہ طور پر بیجنگ کو سمجھتی ہے اور یہ معاملہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں پرخاش کا باعث ہے۔

اگر چین کی حکومت مبینہ طور پر ’او پی ایم‘ پر سائبر حملے میں ملوث ہے تو یہ واضح نہیں کیا وہ وفاقی ملازمین کی معلومات کو دراصل کس طرح استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک چرائی گئی معلومات کے کسی بھی طرح کے غلط استعمال کے بارے میں شواہد نہیں ملے ہیں۔

’او ایم پی‘ نے کہا ہے کہ ایف بی آئی، دفاع اور ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکموں کے ساتھ مل کر اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ چرائی گئی معلومات کا "ابھی یا مستقبل میں کیا ممکنہ بدترین استعمال کیا جا سکتا ہے۔"

XS
SM
MD
LG