رسائی کے لنکس

logo-print

مخالفین کا ٹرمپ پر تشدد کے لیے اکسانے کا الزام


ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایک اور بیان نے ایک بار پھر 2016ء کی صدارتی مہم میں اضطرابی کیفیت پیدا کر دی ہے۔

منگل کو شمالی کیرولائنا میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسلحہ کی حمایت کرنے والے ان کی حریف ڈیموکریٹک ہلری کلنٹن کو صدر بننے سے روک سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کلنٹن صدر بن جاتی ہیں تو وہ سپریم کورٹ میں لبرل ججز مقرر کریں گی جو کہ امریکی آئین میں اسلحہ رکھنے کے حق کو ختم کر دیں گے۔

"ویسے اگر وہ اپنے جج منتخب کرتی ہیں، تو آپ کچھ نہیں کر سکتے، لوگوں آئین کی دوسری ترمیم ۔۔۔ شاید، مجھے نہیں معلوم۔"

یہ وہ مبہم سا بیان تھا جس پر ٹرمپ کے ناقدین نے فوری طور پر اسے اسلحہ کے ذریعے تشدد پر اکسانے سے تعبیر کرتے ہوئے انھیں ایک بار پھر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ہلری کلنٹن کی مہم کے مینیجر روبی موک نے ٹوئٹر پر کہا کہ "جو ٹرمپ کہہ رہے ہیں وہ خطرناک ہے۔ ایک ایسا شخص جو امریکہ کا صدر بننے کی کوشش کر رہا ہے اسے کسی بھی صورت میں تشدد کا مشورہ نہیں دینا چاہیئے۔"

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس فیس بک اور ٹوئٹر پر بھی ٹرمپ کے اس بیان پر خاصی بحث شروع ہو گئی۔

لیکن ٹرمپ نے اپنے بیان پر کی جانے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے فوکس نیوز کو بتایا کہ "یہ ایک سیاسی تحریک ہے۔۔۔یہ مضبوط اور طاقتور تحریک۔ دوسری ترمیم۔ ہلری آپ کی بندوقیں واپس لینا چاہتی ہیں۔ وہ آپ کو اپنے گھروں میں غیر محفوظ چھوڑنا چاہتی ہیں۔ اور اس [بیان] کا کوئی اور ترجمہ نہیں ہو سکتا۔"

امریکہ کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے بھی فوری طور پر ٹرمپ کی حمایت میں ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "ہم انتخابات کے روز یہ کر سکتے ہیں۔ باہر نکلیں اور دوسری ترمیم نہ کہ ہلری کلنٹن کے حق میں ووٹ دیں۔"

XS
SM
MD
LG