رسائی کے لنکس

عدلیہ سے متعلق ن لیگ کے بیان پر حزبِ اختلاف کا سخت ردعمل


فائل فوٹو

پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف زرداری نے ایک یبان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو ججوں کی غصے سے تعبیر کر کے نواز شریف نے اپنے جمہوریت مخالف ایجنڈے کا اظہار کیا ہے۔

پاناما کیس کے فیصلے پر دائر نظر ثانی سے متعلق درخواستوں کو مسترد کرنے کے عدالت عظمیٰ کے تفصیلی فیصلے پر حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ردِعمل پر پاکستان کی حزبِ مخالف کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے شدید تنقید کی ہے جبکہ ملک کے بعض سینئر وکلا کی رائے اس حوالے سے منقسم نظر آتی ہے۔

گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے ایک اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں پاناما کیس کی رواں ہفتے جاری ہونے والے تفصیلی فیصلے کی زبان پر سخت تنقید کے بعد حزب مخالف کی جماعتوں پاکستان پیلپز پارٹی اور تحریک نصاف نے مسلم لیگ (ن) کی طرف سے عدلیہ پر براہ راست تنقید پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر ایک بیان میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو کھلے عام ججوں پر تنقید کرنے پر پشیمان ہونا چاہیے کیونکہ انہوں (عدلیہ) نے غیر قانونی طریقے سے حاصل کی گئی دولت اور بدعنوانی کو بے نقاب کیا ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف نےکہا تھا کہ "جج صاحبان بغض سے بھرے بیٹھے ہیں اور ان کا غصہ ان کے الفاظ میں ظاہر ہو رہا ہے۔"

حزبِ مخالف کے جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف زرداری نے ایک یبان میں کہا ہے کہ عدالتی فیصلے کو ججوں کی غصے سے تعبیر کر کے نواز شریف نے اپنے جمہوریت مخالف ایجنڈے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ موجودہ صورت حال میں نواز شریف کے ساتھ کسی طرح کی ملاقات کرنا اور ان سے تعاون کرنا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ان کا شریک کار بننے کے مترداف ہو گا۔

زرداری نے کہا کہ ایک طرف شہباز شریف اور وفاقی وزرا ان کے خلاف بیان جاری کرتے رہتے ہیں اور دوسری طرف وہ (نواز شریف) ملاقات کے لیے پیغام بھی بھیجتے ہیں۔

اگرچہ نواز شریف کی طرف سے زرداری کے اس بیان پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا ہے اور گزشتہ دو برسوں سے زائد عرصے کے دوران دونوں رہنماؤں کی کوئی ملاقات ہوئی ہے اور نہ ہی ان کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ ہوا ہے۔

دوسری طر ف پاکستان کے بعض سینئر وکلا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی زبان پر نواز شریف اور ان کی جماعت کی طرف سے استعمال کی گئی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو ججوں پر ذاتی تنقید کسی طور مناسب نہیں ہے۔

سپریم کورٹ بار کے سابق صدر کامران مرتضیٰ نے وائس آف امریک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ و ہ پاناما کیس کے دونوں فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے ہیں تاہم ان فیصلوں کو ہمیں ماننا ہے اور ان کے بقول اگرججوں کی حوالے سے کوئی بھی سیاسی جماعت منفی بیانات دینے شروع کر دے تو یہ اداروں کے ساکھ کے حوالے سے کسی طور مناسب نہیں ہوگا۔

تاہم سپریم کورٹ کے سینئر وکیل رشید اے رضوی نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلوں سے متعلق نوازشریف اور ان کی جماعت سخت زبان استعمال کرتی رہی ہے جو ان کے بقول کسی فیصلے پر جائز تنقید کے زمرے نہیں آتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ معزز جج صاحبان کو بھی اپنے فیصلے میں زبان کا استعمال کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ پاناما کیس کے فیصلے پر نظرِ ثانی سے متعلق شریف خاندان کی اپیلیں مسترد کیے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے منگل کو جاری ہونے والے فیصلے میں کہا تھا کہ نواز شریف کی طرف سے جھوٹا بیانِ حلفی دیے جانے کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اُن کی نا اہلی کے حوالے سے حقائق غیر متنازع تھے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ نے اس فیصلے کی زبان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے 'غیر مناسب اور تضیک آمیز' قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG