رسائی کے لنکس

logo-print

کل جماعتی کانفرنس: کیا حکومت مخالف اتحاد بن سکتا ہے؟


Pakistan Politics

پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی طے شدہ آل پارٹیز کانفرنس 26 جون کو اسلام آباد میں منعقد ہو گی جس کی میزبانی جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں۔

سیاسی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ حالات میں اپوزیشن حکومت کے خلاف کوئی فیصلہ کن حکمت عملی اپنانے میں کامیاب ہو گی یا نہیں؟

ماہ رمضان میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کی میزبانی میں ہونے والے ایک اجلاس میں آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا تھا، اس ضمن میں مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

اے پی سی میں کون کون شریک ہو سکتا ہے؟

اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کے اس اکٹھ میں حزب اختلاف کی لگ بھگ تمام جماعتیں شریک ہوں گی، جن میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے اسفند یار ولی، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ، جماعت اسلامی کے سراج الحق اور متحدہ مجلس عمل میں شامل جماعتیں شامل ہیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ حکومت کے ناراض اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل بھی 'اے پی سی' میں شریک ہوں گے اور اپوزیشن اتحاد کا حصہ بننے یا نہ بننے کا حتمی فیصلہ کریں گے۔

اے پی سی کا ایجنڈا

اپوزیشن جماعتوں کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس کا بنیادی مقصد حکومت کی ناقص کارکردگی کا جائزہ لے کر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہے، جس میں احتجاج، سمیت دیگر آپشنز پر غور ہو سکتا ہے۔

سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں مصالحت اور مفاہمت کی پالیسی سے آگے کا سوچ رہی ہیں، ان کے بقول آصف زرداری کی گرفتاری، نواز شریف اور خواجہ سعد رفیق کی ضمانت کی منسوخی نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک دوسرے کے مزید قریب کر دیا ہے۔

بعض مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'اے پی سی' میں چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر بھی غور ہو سکتا ہے۔ خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتیں سینیٹ میں اکثریت رکھتی ہیں اور اتفاق رائے کے نتیجے میں باآسانی چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

اپوزیشن کے اس مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے حوالے سے بھی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے کچھ رہنماء بجٹ منظور نہ ہونے دینے کے دعوے بھی کر چکے ہیں۔

خیال رہے کہ 28 جون کو حکومت کو قومی اسمبلی سے بجٹ منطور کروانا ہے اور سردار اختر مینگل کی جانب سے بجٹ کے خلاف ووٹ دینے سے معمولی عددی اکثریت رکھنے والی حکومت کو بجٹ منظوری میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

کیا مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق ہو سکے گا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے مابین بعض معاملات پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے، اس وجہ سے چھوٹی جماعتیں تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈالیں۔

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی حکومت گرانے کے معاملے پر محتاط ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن شروع دن سے ہی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے حمایتی رہے ہیں۔

تجزیہ کار طلعت حسین کہتے ہیں کہ بظاہر مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں کسی ایک نکتے پر متفق ہوں، یہ جماعتیں اپنی حکمت عملی اور ترجیحات کے تحت ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی۔

اپوزیشن تحریک کی قیادت کون کرے گا؟

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کے معاملے پر ان جماعتوں میں اختلافات ہو سکتے ہیں، شہباز شریف جارحانہ سیاست کے حق میں نہیں ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمن احتجاج اور دھرنوں کی بات کرتے ہیں۔

سینئر صحافی طلعت حسین کہتے ہیں کہ پارلیمینٹ کے اندر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی قیادت پیپلزپارٹی کرے گی جبکہ سڑکوں پر احتجاج کی قیادت مولانا فضل الرحمن کے پاس ہو گی اور باقی جماعتیں ان کے ساتھ مل کر اس میں شریک ہوں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG