رسائی کے لنکس

logo-print

اورنج لائن ٹرین منصوبہ آخر کب مکمل ہوگا؟


​​پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انہیں منصوبے کے بارے میں بات کرنے سے منع کر دیا ہے۔

لاہور کا اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ مقررہ تاریخ گزر جانے کے ایک سال بعد بھی تکمیل کا منتظر ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کو مکمل ہونے میں اب بھی چھ ماہ سے زیادہ کا وقت درکار ہے۔

حکام کے مطابق، منصوبے کے رواں سال دسمبر تک مکمل ہونے کے امکانات ہیں جب کہ عدالتِ عظمیٰ نے منصوبے کو اسی سال جولائی تک مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

معاہدے کے مطابق، اورنج لائن منصوبے کو گزشتہ سال 30 جون تک مکمل ہونا تھا۔ لیکن، عدالتی کارروائی کے باعث اِس کی تعمیر 22 ماہ تک رُکی رہی تھی۔

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے انہیں منصوبے کے بارے میں صحافیوں سے بات کرنے سے منع کر دیا ہے۔

حکام کے مطابق، اُنہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کا تعمیراتی کام 20 مئی تک مکمل کرنے کی کوشش کی تھی جس میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے اسٹیبلنگ یارڈز کی ساری عمارت، پیکج ون اور پیکج ٹو کے تمام اسٹیشنز کا تعمیراتی کام مکمل کرکے انہیں چینی کمپنیوں کے سپرد کر دیا ہے، جبکہ ڈپو کے کچھ کام باقی ہیں جنہیں 10 دن میں پورا کرکے اسے بھی چینی حکام کے سپرد کر دیا جائے گا۔

حکام کے مطابق، عدالت ہینڈنگ اوور کا پراسس اور تعمیراتی کام 20 مئی تک مکمل کرانا چاہتی تھی، لیکن چونکہ منصوبہ بہت بڑا ہے اس لیے ٹیک اوور میں ٹائم لگتا ہے۔ ان کے بقول، 31 جولائی تک منصوبے کی تکمیل ناممکن ہے۔ منصوبے کے ٹیک اوور کی تاریخ کے بعد سے چینی ٹھیکیدار میکینیکل اور الیکٹریکل کام کے لیے چھ ماہ لیں گے اور یہ منصوبہ نومبر یا دسمبر میں مکمل ہو گا۔

ماضی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے چین کی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کر کے اورنج لائن میٹرو ٹرین کا منصوبہ 4ء1 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے اکتوبر 2015ء میں شروع کیا تھا۔ معاہدے کے تحت سول اور میکینیکل کام حکومت پنجاب نے جب کہ الیکٹریکل کام چینی کمپنیوں کو مکمل کرنا تھا۔

منصوبے کے لیے زمین پنجاب حکومت نے مہیا کی تھی جس کے لیے 20 ارب روپے رکھے گئے تھے جو منصوبے کی لاگت میں شامل نہیں۔ لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے مطابق معاہدے کی رو سے سول ورک میں تاخیر کے باعث حکومتِ پنجاب کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہے۔

ایل ڈی اے کے ایک سینئر افسر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ موجودہ حکومت جرمانے کی رقم ظاہر نہیں کر رہی۔ لیکن، معاہدے میں تاخیر کے باعث جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق، منصوبہ زیرِ تعمیر ہے جس کے جرمانے کا حساب منصوبہ مکمل ہونے پر لگایا جائے گا۔ معاہدے کے مطابق، جرمانہ جنوری 2019ء سے شروع ہونا ہے۔

عدالت عظمٰی کے جج جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے رواں سال 19 اپریل کو پنجاب حکومت کو زیرِ تعمیر اورنج لائن میٹرو ٹرین کا تعمیراتی کام 20 مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سپریم کورٹ کی جانب سے تعمیراتی کام مکمل کرنے کے لیے دی جانے والی یہ حمتی تاریخ گزر چکی ہے، لیکن منصوبے کا تعمیراتی کام پوری طرح مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، حکومت پنجاب اورنج لائن میٹرو ٹرین کے تعمیراتی کام کے لیے مزید ایک ماہ لے سکتی ہے جس کے لیے اس نے عدالتِ عظمٰی میں درخواست دائر کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق، اورنج لائن میٹرو ٹرین کا 90 فی صد سے زائد کام مکمل ہو چکا ہے جب کہ مکمل سول ورک اگست تک مکمل ہونے کا امکان ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG