رسائی کے لنکس

logo-print

دہشت گردی میں معاونت، پاکستانی نژاد شخص قصوروار قرار


امریکی محکمہٴانصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ استغاثہ اور حکومت دونوں نے اُسے 87 ماہ قید کی سفارش کی تھی

امریکہ کی ایک عدالت نے ایک شخص کو چھ سال قبل پاکستان میں ہونے والے ایک دہشت گرد حملے میں معاونت کا قصور وار ٹھہرایا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق، ریاست اریگون میں پورلینڈ کے رہائشی رضا قادر خان نے ضلعی عدالت میں جمع کروائی گئی ایک درخواست میں اعتراف کیا ہے کہ اس نے 2009ء میں پاکستانی شہر لاہور میں انٹیلی جنس ادارے کے دفتر پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی اہلیہ کو ایسا مشورہ اور مالی معاونت فراہم کی، جس سے وہ گرفتاری سے بچ سکتے تھے۔

51 سالہ رضا قادر کا اصل تعلق پاکستان سے ہے اور وہ تین بچوں کا باپ ہے۔ اسے 2013ء میں اس الزام کے تحت گرفتار کیا گیا تھا کہ اس نے مالدیپ سے تعلق رکھنے والے علی جلیل نامی بم حملہ آور اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ ای میل کے ذریعے مشاورت کی اور انھیں مالی معاونت فراہم کی۔

فرد جرم میں کہا گیا تھا کہ مشاورت کا سلسلہ 2005ء سے شروع ہوا اور مئی 2009ء تک جاری رہا۔ اسی ماہ میں لاہور میں پولیس کے ایک صدر دفتر پر، جسے انٹیلی جنس ایجنسی کے لوگ بھی اپنے کام کے لیے استعمال کرتے تھے، حملہ ہوا جس میں کم ازکم 30 افراد ہلاک اور تقریباً 300 زخمی ہو گئے تھے۔

پاکستانی حکام نے اس حملے کے بعد کہا تھا کہ یہ حملہ بظاہر عسکریت پسندوں کے خلاف سوات میں جاری آپریشن کا ردعمل تھا اور باور کیا جاتا ہے کہ اس میں جلیل اور اس کے دو ساتھیوں نے حصہ لیا۔

امریکی استغاثہ کے مطابق، حملے کے بعد القاعدہ کی طرف سے جاری ایک وڈیو میں جلیل کو اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے اور ساتھ ہی ممکنہ طور پر پاکستان کے قبائلی علاقے میں ایک تربیتی کیمپ میں تیاری کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

امریکی محکمہٴانصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ استغاثہ اور حکومت دونوں نے اُسے 87 ماہ قید کی سفارش کی تھی۔

XS
SM
MD
LG