رسائی کے لنکس

logo-print

عمر متین ’ذہنی عدم توازن‘ کا شکار تھا: سابق اہلیہ


ستورا یوسفی نے کہا کہ ان کے سابق شوہر نے انہیں یرغمال بنا رکھا تھا اور ان کے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اپنے اہل خانہ کی مدد سے وہ ایک دن اپنی چیزیں چھوڑ کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

اورلینڈو کے نائٹ کلب میں حملہ کرنے والے شخص عمر متین کی سابق اہلیہ نے اسے ذہنی عدم توازن کا شکار اور بیمار بتایا ہے اور اس سے اپنی مختصر شادی کو ’’جہنم‘‘ قرار دیا ہے۔

ستورا یوسفی نے اتوار کی شام نامہ نگاروں کو امریکی تاریخ کے بدترین قتل عام کے ذمہ دار شخص سے چار ماہ کی شادی کے بارے میں بتایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ شادی کے شروع کے دنوں میں ’’نارمل‘‘ تھا مگر جلد ہی بات بے بات غصے میں آ جاتا۔

ستورا یوسفی کا کہنا تھا کہ اس کے بعد وہ جسمانی تشدد پر اتر آیا اور شدید غصے کی حالت میں اسے چھوٹی چھوٹی بات پر مارنے لگا، مثلاً جب وہ گھر سے آتا تو کپڑے دھلے نہ ملنے پر مارنے لگتا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے سابق شوہر نے انہیں یرغمال بنا رکھا تھا اور ان کے اہل خانہ سے ملنے نہیں دیتا تھا۔ ستورا نے بتایا کہ اپنے اہل خانہ کی مدد سے وہ ایک دن اپنی چیزیں چھوڑ کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔

ستورا نے کہا کہ اس کی بدمزاجی کے باوجود جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اس کا سابق شوہر اس قتل عام کا ذمہ دار ہے تو وہ ’’ہل کر رہ گئی‘‘ اور یہ ایسی چیز تھی جس کی اسے کبھی توقع نہ تھی۔

ہم جنس پرستوں سے نفرت

عمر متین کے والد میر صدیق نے این بی سی ٹیلی وژن نیٹ ورک کو بتایا کہ ممکن ہے کہ ان کا بیٹا اپنے مذہب کی بجائے ہم جنس پرستوں سے نفرت کی وجہ سے اس کام کرنے پر مائل ہوا ہو۔

انہوں نے ریاست فلوریڈا کے ایک اور شہر میامی میں ایک واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

’’اس نے دو مردوں کو ایک دوسرے کو اپنی بیوی اور بچے کے سامنے بوس و کنار کرتے دیکھا تو وہ شدید غصے میں آ گیا ۔۔۔ اس نے کہا ’انہیں دیکھو، میرے بیٹے کے سامنے وہ ایسا کر رہے ہیں۔‘ پھر ہم مردوں کے باتھ روم میں گئے تو وہاں بھی مرد یہی کر رہے تھے۔‘‘

حملہ آور کے والد نے اس حملے کے متاثرین سے معافی مانگی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’اس کے رشتے دار اس کے اس کے کسی بھی عمل سے آگاہ نہیں تھے۔ ہم باقی ملک کی طرح صدمے میں ہیں۔‘‘

XS
SM
MD
LG