رسائی کے لنکس

logo-print

مسلمانوں پر پابندی سے متعلق بیانات نقصان دہ ہو سکتے ہیں: مسلم تنظیم


ٹرمپ کے طرف سے دہرائے گئے مطالبے پر ان کی حریف ممکنہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے پھر شدید تنقید کی گئی۔ لیکن اس مطالبے کی کسی حد تک حمایت بھی سامنے آئی۔

اورلینڈو میں ایک نائٹ کلب پر ہلاکت خیز حملہ کرنے والے کی طرف سے شدت پسند گروپ داعش کے ساتھ وفاداری کے دعوے کے تناظر میں مسلمانوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کا بیانیہ ایک بار پھر تازہ ہوا ہے جس سے امریکہ کے مسلمان ملکوں کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ۔

یہ بات امریکہ میں مسلمانوں کی ایک بڑی نمائندہ تنظیم "کیئر" کے ترجمان ابراہیم ہوپر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہی۔

وہ کہتے ہیں کہ "جب کبھی بھی کوئی ایسی صورتحال ہو جس میں وائٹ ہاؤس میں جانے والے (امریکی صدر) کی طرف سے اتحادیوں کو ممکنہ لاپرواہ رویے کا خدشہ ہو، تو میرا خیال ہے یہ ہمارے دیگر دنیا کے ساتھ تعلقات کو صرف نقصان ہی پہنچا سکتا ہے۔"

ان کے اس بیان سے پہلے ریپبلکن جماعت کے ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسلمان کے لیے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی کے اپنے مطالبے کو دہرایا گیا تھا۔

حکام کے مطابق افغان نژاد امریکی خاندان کے گھر پیدا ہونے والے اورلینڈو کلب کے حملہ آور عمر صدیق متین نے حملے سے قبل داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔ اس حملے میں 49 افراد ہلاک اور 53 زخمی ہو گئے تھے۔

ٹرمپ کے طرف سے دہرائے گئے مطالبے پر ان کی حریف ممکنہ ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہلری کلنٹن سمیت مختلف حلقوں کی جانب سے پھر شدید تنقید کی گئی۔ لیکن اس مطالبے کی کسی حد تک حمایت بھی سامنے آئی۔

انٹرنیٹ پر ایک روزنامے "امریکن تھنکر" میں شائع ہونے والے کالم میں کالم نگار کارن مک کولن کا کہنا تھا کہ "ہمیں مسلمانوں کی امیگریشن کو روکنے کی ضرورت ہے تاوقتیکہ جہاد کا خطرہ ٹل نہیں جاتا، یا پھر امریکی شہری اپنے ہی ملک میں مسلمان دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔"

کیئر کے ترجمان ہوپر کہتے ہیں کہ "ہماری حکومت ہماری قوم میں پائی جانے والی مربوط اور اقتصادی طور پر بھرپور اسلاموفوبیا کی صنعت سے ہونے والے نقصان کو کم کرنے کے لیے جو کچھ وہ کر سکتی ہے کر رہی ہے۔"

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد ممالک کے رہنماؤں نے اتوار کے ہلاکت خیز واقعے پر یکجہتی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ خارجہ میں مسلمان برادری کے لیے نمائندہ خصوصی شارق ظفر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جب کبھی بھی وہ بیرون ملک دورہ کرتے ہیں تو ان سے امریکہ میں مسلم مخالف تصور کے بارے میں سوالات کیے جاتے ہیں۔

"میں انھیں عام طور پر یہی جواب دیتا ہوں کہ ایسے میں جب دنیا کے ہر کونے میں تعصب اور امتیاز کا پایا جانا بشمول امریکہ بدقسمتی ہے، لیکن ایسی عدم برداشت ہمارے ملک کی صحیح معنوں میں ترجمانی نہیں کرتی۔"

انسداد دہشت گردی کے مبصر میلکم نانس کہتے ہیں کہ مسلمانوں سے تعصب نادانستہ طور پر انتہا پسندوں کو فائدہ پہنچائے گا۔

XS
SM
MD
LG