رسائی کے لنکس

logo-print

سرکار ی حراستی مراکز میں 13 سو سے زائد افراد کی موجودگی کا انکشاف


پاکستان کی عدالت عظمیٰ۔ فائل فوٹو

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 1,330 افراد سرکاری حراستی مراکز میں بند ہیں جبکہ 253 کو رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ بات پاکستان کے ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے بدھ کو لاپتہ افراد کے معاملے کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو بتائی جس کی سربراہی جسٹس اعجاز افضل خان کر رہے ہیں۔

لاپتا افراد کے وکیل انعام الرحیم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کو اس بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی ہےکہ ان افراد کے خلاف اب تک کوی قانونی کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔ تاہم ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالتی عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ انہیں اس بارے میں تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کے لیےمزید وقت درکار ہوگا۔

جسٹس اعجاز افضل نے اس موقع پر کہا کہ عدالت زیر حراست افراد کی رہائی کا نہیں کہہ رہی ہے بلکہ عدالت یہ جاننا چاہتی ہے کہ زیر حراست افراد کو کن الزامات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جبر ی گمشدگیوں سے متعلق قائم انکوائری کمیشن اب تک تین ہزار سے لاپتہ افراد کے معاملے کو نمٹا چکا ہے جبکہ ایک ہزار 8 سو شکایات کمیشن میں زیر التوا ہیں۔

ا س موقع پر بینچ کے سربراہ جسٹس افضل خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لاپتا ہونے والے افراد کے ورثا بےبس ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے عدالتوں اور لاپتا افراد سے متعلق کمیشن سے رجوع کر رہے ہیں۔

وکیل انعام الرحیم نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سیکورٹی ادارے نا تو عدالت عظمیٰ میں لاپتا افراد سے متعلق نا تو کوئی رپورٹ پیش کر رہے ہیں اور نا ہی وہ اس حوالے سے کوئی سنجیدہ نظر آتے ہیں۔

انعام الرحیم نے کہا کہ انہوں نے عدالت سے استدعا کہ " انہوں نے کسی کی رہائی کا مطا لبہ نہیں کیا ہے ہماری یہ درخواست ہے کہ ہمارا بیٹا ، بھائی یا شوہر کس جرم میں گرفتار ہیں ہم صرف یہ وجہ جاننا چاہتے ہیں کہ انہیں کس قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ "

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ سابق چیف جسٹس ناصر الملک نے 13 مئی 2014ء کو تاسف علی کے حراست میں رکھے جانے سے متعلق احکامات عدالت میں پیش کرنے کا کہا تھا جو 2013ء میں راوالپنڈی سے لاپتا ہوا تھا ۔

انعام الرحیم نے ارشد بلال کے معاملے سے بھی عدالت کو آگاہ کیا جسے ان کے بقول 2011ء میں اس وقت سوات سے حراست میں لیا گیا جب اس کی عمر صرف 16 سال تھی اور بعد ازاں ایک فوجی عدالت نے مئی 2017 میں سیکورٹی اہلکاروں پر راکٹ لانچر سے حملے کرنے کے جرم میں اسے سزائے موت سنا دی تھی ۔ انعا م الرحیم نے عدالت کے سامنے موقف اختیار کیا کہ بلال کو جب حراست میں لیا گیا اس وقت وہ نابالغ تھا ۔

اس پر عدالت نے انعام الرحیم کو کہا کہ اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG