رسائی کے لنکس

logo-print

روس: صدر پوٹن کے خلاف احتجاج کرنے والے 140 سے زائد مظاہرین گرفتار


پولیس اہلکار مظاہرے میں شریک ایک شخص کو گرفتار کر کے اپنے ہمراہ لے جا رہے ہیں۔

روس کی پولیس نے صدر ولادیمیر پوٹن اور آئین میں متنازع ترمیم کے خلاف دارالحکومت ماسکو میں احتجاج کرنے والے 142 مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے جن میں کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔

ماسکو کے سینٹرل پشکن اسکوائر پر بدھ کی شام سیکڑوں افراد جمع ہوئے اور انہوں نے صدر پوٹن اور رواں ماہ آئین میں ترمیم کے لیے ہونے والے ریفرنڈم کی مخالفت میں نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر 'پوٹن کے بغیر روس' اور 'روس کو آزاد کرو' کے نعرے درج تھے۔

پولیس نے احتجاج کے بعد مظاہرین کو گرفتار کرنا شروع کیا جن میں ​سماجی رہنما اور ماسکو کی سٹی کونسلر یولیا گلیامینا بھی شامل ہیں۔ گلیامینا صدر ولادی میر پوٹن کی جانب سے آئین میں کی جانے والی ممکنہ ترمیم کی شدید مخالف ہیں اور اس سے متعلق مہم میں پیش پیش ہیں۔

پولیس نے بدھ کی شام احتجاج کے دوران یولیا گلیامینا کی صاحبزادی اور احتجاج کی کوریج کرنے والے کئی صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا۔

روس میں رواں ماہ آئین میں ترمیم کے لیے ریفرنڈم ہوا تھا جس کے بعد صدر پوٹن کے لیے 2036 تک صدر کے عہدے پر رہنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

مظاہرین نے آئینی ترمیم کے لیے ریفرنڈم کے نتیجے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔
مظاہرین نے آئینی ترمیم کے لیے ریفرنڈم کے نتیجے کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

صدر پوٹن کی مدتِ صدارت 2024 میں مکمل ہو گی لیکن آئینی ترمیم کی صورت میں وہ مزید دو مرتبہ چھ، چھ برس کے لیے صدارتی انتخابات میں حصہ لے سکیں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم کا مقصد صدر پوٹن کے دورِ اقتدار کو طول دینا ہے۔

بدھ کو گلیامینا اور ان کے حامیوں کی بڑی تعداد ماسکو کے سینٹرل پشکن اسکوائر پر جمع ہوئی اور انہوں نے آئین میں ممکنہ ترمیم کے خلاف دستخطوں کی مہم کے دوران سیکڑوں افراد سے دستخط لیے۔

گلیامینا کا کہنا ہے کہ حکومت کے غیر آئینی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا جس کے لیے ملک بھر میں رائے عامہ ہموار کی جائے گی۔

سماجی کارکن اینڈریو پیوورو نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین میں ترمیم کے خلاف قانونی جنگ لڑنے جا رہے ہیں اور اس مقصد کے لیے ملک بھر میں دستخطوں کی مہم کو لے کر جائیں گے۔

ماسکو کے علاوہ سینٹ پیٹرز برگ میں بھی سیکڑوں مظاہرین جمع ہوئے اور انہوں نے دستخطوں کی مہم میں حصہ لیا۔

مظاہرے میں شریک پچاس سالہ اینڈریو اسٹیپانو نے کہا کہ حکام چاہے کچھ بھی کرلیں، وہ عوام کی رائے کو دبا نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں حکام پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم آئین میں کسی متنازع ترمیم کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور یہ ملک کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG