رسائی کے لنکس

آبادی کے نزدیک کول پاور پلانٹس پر اکاؤنٹس کمیٹی کا اظہارِ تشویش


فائل فوٹو

سید خورشید شاہ نے تجویز دی کہ کوئلے سے چلنے والے پلانٹس ریگستانوں میں لگائے جائیں۔

پاکستانی پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے صوبۂ پنجاب کے ضلع ساہیوال میں کوئلے سے بجلی بنانے والے پلانٹ کو انسانی زندگی کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔

پارلیمان کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں بجلی کے شعبے کی کارکرگی کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ فضائی آلودگی کے باعث ساہیوال کوئلہ پاور پراجیکٹ حکومت کے خلاف دفعہ 302 کا کیس ہے جو آدھے پنجاب کو ٹی بی کا مریض بنا دے گا اور اگر لوگ دھوئیں سے مریں گے تو قتل کا مقدمہ تو بنے گا۔

انہوں نے تجویز دی کہ کوئلے سے چلنے والے پلانٹس ریگستانوں میں لگائے جائیں۔

کمیٹی میں حکومتی رکن راجہ جاوید اخلاص نے حکومتی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایک مرتبہ لوڈ شیڈنگ سے جان چھڑانے دیں، بہت مشکل سے لوڈ شیڈنگ ختم کر رہے ہیں، رکاوٹیں نہ ڈالیں۔

اس پر خورشید شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسی گولی کا کیا فائدہ جس سے ایک دن بیماری جائے اور اگلے دن بندہ بھی جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین اپنے کوئلے کے پلانٹ بند کر کے ان کی مشینری پاکستان کو بیچ رہا ہے۔

اجلاس میں بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کا معاملہ بھی زیرِبحث آیا اور کمیٹی ارکان نے وزارتِ توانائی کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صارفین کو اووربلنگ کی جارہی ہے، 90 فیصد بل بغیر ریڈنگ کے بھجوادیے جاتے ہیں، صارفین کو ایوریج فارمولہ لگا کر بل بھیج دیا جاتا ہے۔

کمیٹی ارکان کاکہنا تھا کہ صارفین سے لیٹ بل سرچارج بھی وصول کیا جاتا ہے، 80 فیصد گھریلو صارفین کو بل کی ادائیگی کے لیے قطاروں میں لگنا پڑتا ہے اور بل دانستہ طور پر تاخیر سے بھیجے جاتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی خورشید شاہ نے کہا کہ جس دن بجلی کی درست قیمت وصول کی گئی بجلی کی چوری ختم ہو جائے گی، واپڈا یہ بات سوچے کہ بجلی کی چوری کیوں ہو رہی ہے، اگر ایک روپے کی جگہ پانچ روپے قیمت وصول کریں گے تو چوریاں تو ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ دیہاتوں میں بجلی چوری کی وجہ ہی اوور بلنگ ہے۔ پانچ سال بعد پی ٹی سی ایل کی طرح واپڈا حکام بھی گھر گھر جا کر عوام کی منت کریں گے کہ بجلی لے لو لیکن لوگ بجلی نہیں لیں گے بلکہ سولر پر آجائیں گے۔

سیکریٹری توانائی یوسف نسیم نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ دورانِ ترسیل ہونے والے نقصانات اور بجلی چوری سے سالانہ 214 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ توانائی کے شعبے میں سرکولر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے ایک مرتبہ پھر ساڑھے 4 سو ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں۔بجلی کے ترسیلی نقصانات اس وقت 17.9 فی صد ہیں، ایک فیصد ترسیلی نقصان سے مالی طور پر 12 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG