رسائی کے لنکس

مہمند ایجنسی میں سرحد پار سے حملہ، سکیورٹی اہلکار اور تین عسکریت پسند ہلاک


فائل فوٹو

دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کی اس سرحد کی نگرانی آسان نہیں ہے اور اسے ایک ایسی سرحد تصور کیا جاتا ہے جسے بلا روک ٹوک عبور کرنے کے گنجائش دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں افغان سرحد کے قریب عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں ایک سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گیا۔

فوج کے میڈیا ونگ نے جمعرات کے روز بتایا کہ افغانستان میں چھپے ہوئے عسکریت پسندوں نے سرحد کے قریب واقع پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس کا بھرپور جواب دیا گیا۔

انٹر سروسز پبلک ریلشنز نے دعویٰ کیا ہے کہ موثر جوابی کارروائی میں تین دہشت گرد بھی مارے گئے۔

اس مہینے کے شروع میں سرحد کی دوسرے جانب سے کیے گئے ایک حملے میں پاکستان کے پانچ سیکیورٹی اہل کار ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ حملہ افغان صوبے خوست کی سرحد سے کرم ایجنسی میں قائم ایک سرحدی چوکی پر کیا گیا تھا۔

پاکستان نے افغانستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت روکنے کے لیے سرحد پر باڑ لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور طورخم کے علاقے میں باڑ کی تنصيب مکمل ہو چکی ہے جب کہ چمن کی سرحد پر یہ کام جاری ہے۔

پچھلے سال دسمبر میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی فوج افغانستان کے ساتھ اپنی ملحق سرحد کے 1500 کلومیٹر کی پٹی پر باڑ لگانا چاہتی ہے۔

دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کی اس سرحد کی نگرانی آسان نہیں ہے اور اسے ایک ایسی سرحد تصور کیا جاتا ہے جسے بلا روک ٹوک عبور کرنے کے گنجائش دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

محدود نگرانی کے باعث یہ سرحد منشیات اور انسانی اسمگلنگ کا بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔

چترال سے جنوبی وزیرستان تک سرحد پر فولادی خار دار باڑ لگانے کے لیے 14 مختلف مقامات پر روزانہ کی بنیادوں پر ہزاروں فوجی اور سینکڑوں گاڑیاں کام کر رہی ہیں۔

اس پراجیکٹ کا 432 کلومیٹر پر مشتمل پہلا حصہ اس سال کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔

افغانستان کو باڑ کی تنصيب پر سخت نوعیت کے اعتراضات ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسے علاقے میں لگائی جا رہی ہے جو اس کے بقول بین الاقوامی سرحد نہیں ہے اور اس کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG