رسائی کے لنکس

سہ فریقی اجلاس میں علاقائی امن اور اقتصادی روابط کے فروغ پر بات چیت


پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر (فائل فوٹو)

سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے ماضی میں ایک دوسرے پر کی جانی والی الزام تراشی کی روش کو بھلا کر ایک دوسرے پر اعتماد کرنا شرو ع کیا ہے۔ اُنھوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مصالحتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک افغان قیادت میں اس مسئلے کے حل میں ہر ممکن کردار پر تیار ہے۔

پاکستان، افغانستان اور امریکی عہدیداروں کا سہ فریقی اجلاس منگل کو کابل میں ہوا جس میں پاکستانی وفد کی قیاد ت سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر جب کہ افغان وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ جاوید لویدن نے کی۔

بات چیت کے اس دور میں ا مریکی وفد کی قیادت پاکستان اور افغانستان کے لیے صدر براک اوباما کے نمائندہ خصوصی مارک گراسمین نے کرنی تھی لیکن طبیعت کی ناسازی کے باعث اُن کے ایک معاون نے مذاکرات میں امریکی وفد کی سربراہی کی۔

اجلاس کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب افغان وزیر خارجہ جاوید لویدن نے کہا کہ وہ پاکستانی خارجہ سیکرٹری کے شکر گزار ہیں جنہوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ راہداری کے معاہدے پر پائے جانے والے اختلافات کو دور کرنے میں مدد دی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے بعد اب دونوں ملک طے شدہ شیڈول کے مطابق 12 جون سے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں ۔

نائب افغان وزیر خارجہ نے کہا کہ اس دو طرفہ معاہدے سے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کے آغاز کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کے درمیان قربت بھی بڑھے گی۔ جاوید لویدن کا کہنا تھا کہ ریل کے ذریعے رابطے بڑھانے کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بات چیت میں ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان اور بھارت تک گیس پائپ لائن کا مجوزہ منصوبہ بھی زیربحث آیا۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں امریکی وفد کے سربراہ نے بھی دو طرفہ راہداری کے معاہدے پر اختلافات طے پانے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور اس توقع کا اظہار کیا افغانستان اور پاکستان کے درمیان دیگر مجوزہ منصوبوں پر بھی جلد اتفاق رائے ہوجائے گا کیوں کہ یہ علاقے میں اقتصادی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔

سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان نے ماضی میں ایک دوسرے پر کی جانی والی الزام تراشی کی روش کو بھلا کر ایک دوسرے پر اعتماد کرنا شرو ع کیا ہے۔ اُنھوں نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مصالحتی عمل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک افغان قیادت میں اس مسئلے کے حل میں ہر ممکن کردار پر تیار ہے۔

پاکستانی خارجہ سیکرٹری نے امن و مفاہمت کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے اُس مشترکہ کمیشن کو جلد از جلد فعال بنانے پر بھی زور دیا جس کے قیام کا فیصلہ گذشتہ ماہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دورہ کابل میں کیا گیا تھا۔

پاکستان ، افغانستان اور امریکہ کے درمیان رواں ماہ کے دوران یہ دوسرا سہ فریقی اجلاس ہے اس سے قبل تین مئی کو اسلام آباد میں اس سلسلے کا پہلا دور ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG