رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان علما کا اجلاس جلد متوقع: اعلیٰ امن کونسل


جکارتہ میں منعقدہ علما کانفرنس (فائل)

افغانستان کی ’ہائی پیس کونسل‘ نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مذہبی علما کے مابین ایک اجلاس بہت جلد منعقد کیا جائے گا، جس کا مقصد ملک میں جنگ کو ختم کرنا اور امن لانا ہے۔ لیکن، ان کا کہنا ہے کہ اس کے لئے ابھی وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔

کونسل کے ترجمان، احسان طاہری نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’افغان سروس‘ کو بتایا ہے کہ ’’اجلاس کے لئے تیاری کے کام کا آغاز ہو چکا ہے‘‘۔

اُنھوں نے بتایا کہ ’’یہ ایک ایسا مرحلہ ہے جو شروع کر دیا گیا ہے۔ اور یہ افغان لوگوں کے مفاد میں ہے۔ یہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لئے ایک اچھا قدم ہے۔ لیکن، یہ اقدام اس وقت مؤثر ثابت ہوگا جب پاکستان کے مذہبی علما افغانستان میں ہونے والی لڑائی کو جہاد نہ سمجھیں‘‘۔

گذشتہ ہفتے انڈونیشیا میں پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا کے علما ایک اجلاس میں شریک تھے جس میں انہوں نے افغانستان میں تشدد کے حوالے سے ایک فتویٰ بھی دیا۔

اس اجلاس کے دوران ہونے والی ایک علیحدہ ملاقات میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ آئندہ پاکستان اور افغانستان کے علما بھی امن اور سیکورٹی لانے کے لئے ایسے ہی اجلاس منعقد کریں گے۔

تاہم، پاکستان اور افغانستان کے امور کے ماہرین ان اجلاسوں سے زیادہ توقعات نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دباؤ کے تحت کئے جا رہے ہیں۔

کابل یونیورسٹی سے وابستہ فیض محمد زلان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے ایسے اجلاسوں کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب، طالبان کے ایک سابق عہدے دار اکبر آغا کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے دینی علما اپنی حکومتوں کے اثر سے آزاد ہو جائے اور خود فیصلے کریں تو امکان ہے کہ اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

افغانستان کے امن شورہ کا کہنا ہے کہ جولائی میں سعودی عرب میں بھی ایک ایسا ہی اجلاس منعقد ہونے والا ہے جس میں مسلم دنیا سے مذہبی علما شرکت کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG