رسائی کے لنکس

logo-print

پاک افغان سفارتی کشیدگی سے دو طرفہ تجارت متاثر ہونے کا خدشہ


پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی راستے خیبر پاس سے مسافر اور تجارتی گاڑیاں گزر رہی ہیں۔ (فائل فوٹو)

کابل میں پاکستان کے سفارت حانے نے گزشتہ ہفتے ایک اعلامیے کے ذریعے جلال آباد میں قائم قونصل خانے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

افغانستان کے سرحدی شہر جلال آباد میں پاکستان کے سفارتی مشن کی بندش سے ایک جانب تو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان عوام کی آمد و رفت اور سفارتی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے تو دوسری طرف تاجروں کو خدشہ ہے کہ اس سے دو طرفہ تجارت بھی متاثر ہوگی۔

کابل میں پاکستان کے سفارت حانے نے گزشتہ ہفتے ایک اعلامیے کے ذریعے جلال آباد میں قائم قونصل خانے کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اعلامیے میں افغانستان کے سرحدی صوبے ننگرہار کے گورنر ہدایت اللہ حیات پر پاکستانی قونصل خانے پر دھاوا بولنے اور سفارتی عملے کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

پاکستان میں متعین ایک افغان سفارت کار نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے افغان سفارت کار نے کہا کہ ان کا کابل میں وزارتِ خارجہ سے اس مسئلے کے حل کے لیے رابطہ ہوا ہے اور امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد ہو جائے گا۔

گزشتہ ایک سال سے پاکستان کی جانب سے سفری پابندیوں کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے ویزہ کے حصول کے لیے ہر ماہ ہزاروں لوگ رجوع کرتے ہیں۔

ایک طرف رش کی وجہ سے ویزے کی خواہش مند ان افراد کو سفارتی تنصیبات کے باہر سخت موسم میں کئی کئی گھنٹوں تک قطاروں میں انتظار کرنا پڑتا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے خطرے کے باعث اس سے امن وامان کی صورتِ حال بھی متاثر ہوتی ہے۔

بعض تاجروں اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ ویزوں کے اجرا میں تاخیر کے باعث دونوں ممالک کے ویزوں کے جلد اجرا کے لیے مبینہ طور پر رشوت بھی لی جانے لگی ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع ایک سرحدی گزر گاہ پر شہری افغانستان میں داخلے کی اجازت ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع ایک سرحدی گزر گاہ پر شہری افغانستان میں داخلے کی اجازت ملنے کا انتظار کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

پاکستان اور افغانستان کے صنعت و حرفت کی مشترکہ تنظیم کے سینئر نائب صدر ضیا الحق سرحدی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کی بندش پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دو طرفہ تجارت مزید متاثر ہوگی۔

اُنہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تمام تر غلط فہمیاں اور اختلافات دور کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

افغانستان سے ملحق پاکستان کے ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے تاجر ناصر خان شینواری نے کہا ہے کہ سرحدی پابندیوں سے عام لوگوں اور تاجروں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تمام تر اختلافات کو حل کریں اور روزانہ کی بنیاد پر تجارت کی غرض سے آنے جانے والے لوگوں کو آسان طریقے سے ویزوں کا اجرا ممکن بنائیں۔

افغانستان کے سرحدی شہر جلال آباد میں واقع پاکستانی قونصل خانے اور پشاور میں قائم افغانستان کے قونصل خانے کے سامنے صبح سے لے کر شام تک ویزے کے خواہش مند طویل قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں۔

اس سے قبل دو طرفہ تجارت سے وابستہ لوگ بالخصوص تمام قبائلی علاقوں کے باشندے بغیر پاسپورٹ اور ویزہ کے دونوں ممالک آتے جاتے تھے۔ مگر اب دونوں ممالک نے سفری پابندیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG