رسائی کے لنکس

logo-print

سرحدی کشیدگی پر پاک افغان فوجی مذاکرات


پاکستان افغانستان سرحدکی ایک چوکی پر تعینات پاکستانی فوجی

پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے افغان ہم منصب کو بتایا کہ ان کی فوج اسی وقت فائر کھولتی ہے جب اس کے سرحدی گاؤں یا چوکیوں پر سرحد پار سے دہشت گرد بڑی تعداد میں حملہ کرتے ہیں۔

پاکستان کے فوجی حکام نے اپنے افغان ہم منصبوں سے ملاقات میں ان پر واضح کیا ہے کہ افغانستان میں مفررو شدت پسندوں کے اڈوں سے حملوں کے جواب ہی میں سرحد پار فائرنگ کی جاتی ہے اور پاکستانی فوج کی جانب سے افغان فوجیوں یا عوام پر گولی چلانا ممکن نہیں۔

راولپنڈی میں فوج کے صدر دفتر میں بدھ کو افغان فوجی وفد سے ملاقات میں پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے یہ وضاحت پیش کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری ایک بیان کے مطابق افغان وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ اور نورستان میں ’’دہشت گردوں‘‘ کے اڈے موجود ہیں اور پاکستانی خفیہ ادارے بار ہا افغان حکام کو ان کی نشاندہی کرا چکے ہیں۔

’’پاکستان فوج اسی وقت فائر کھولتی ہے جب (پاکستان) کے سرحدی گاؤں یا چوکیوں پر ان اڈوں سے دہشت گرد بڑی تعداد میں حملہ کرتے ہیں…. پاکستانی فوج کی جانب سے افغان فوجیوں اور عوام پر اندھا دھند فائرنگ کرنا ممکن ہی نہیں۔‘‘

بیان کے مطابق دونوں ممالک کے فوجی حکام نے باہمی رابطے قائم رکھنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ شر پسند کسی طرح کا فائدہ نا اٹھا سکیں۔

افغان حکام کو بتایا گیا اب تک سرحد پار افغانستان سے جنگجو 13 حملے کر چکے ہیں۔

رواں ہفتے کابل میں اعلیٰ افغان حکام نے دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستان کی طرف سے ان کی ملکی حدود میں کیے جانے والے حملے نہ رکے تو افغانستان جوابی کاروائی پر مجبور ہو جائے گا۔
XS
SM
MD
LG