رسائی کے لنکس

logo-print

فضائى حملے میں جنگجو ہی نہیں، عام شہری بھی ہلاک ہوئے: پاکستانی عہدے دار


حکومت کے عہدے داروں اور زندہ بچ جانے والوں نے کہا ہے کہ ہفتے کے دن پاک فضائیہ کے ایک حملے میں جو 71 لوگ ہلاک ہوئے تھے ، اُن میں کئى عام شہری شامل ہیں، جبکہ فوج کا اصرار ہے کہ حملے کا ہدف صرف جنگجو تھے۔

دیہاتیوں اور حکومت کے ذرائع نے منگل کے روز کہا ہے کہ جو لوگ ہلاک ہوئے، حقیقت میں وہ قبائیلی تھے جو خیبر کے علاقے میں ایک گھر میں جمع ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والے عام شہریوں یا جنگجو ؤں کی ٹھیک تعداد ابھی تک واضح نہیں ہوئى۔

ایک سیاسی عہدے دار نے کہا ہے کہ علاقائى حکام نے ہلاک شدگان کے اہلِ خاندان کو ہرجانہ ادا کرنے کے لیے پہلے ہی ایک لاکھ 25 ہزار ڈالر کی رقم مُختص کردی ہے۔

فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے سب سے پہلے ہفتے کی صبح اُس گھر پر بمباری کی تھی۔اور دیہاتیوں نے کہا ہے کہ جب لوگ لاشیں نکالنے کے لیے وہاں پہنچے تو دوبارہ اُس گھر پر بمباری کی گئى۔

مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج کو غلط اطلاع ملی تھی اور اُس علاقے کے لوگ تو ہمیشہ فوج کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔جس گھر پر بمباری کی گئى، اُس کے مالک کے دو بیٹے پاکستان کی برّی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

فوجی عہدے داروں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ حملے میں عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG