رسائی کے لنکس

logo-print

ڈرون حملوں کے خلاف حکمتِ عملی کارگر ثابت ہو رہی ہے: پاکستان


دفتر خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے بتایا کہ حکومت نے جو حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے اس میں ڈرون حملوں پر دو طرفہ بات چیت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی اس معاملے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملے بند کروانے کے بارے میں حکومت کی موجودہ حکمتِ عملی کارگر ثابت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان اعزاز احمد چودھری نے اسلام آباد میں جمعہ کو نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے جو حکمتِ عملی اپنا رکھی ہے اس میں ڈرون حملوں پر دو طرفہ بات چیت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی اس معاملے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

اُنھوں نے پاکستان کا موقف دہراتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں کا معاملہ صرف پاکستان سے متعلق نہیں کیوں کہ ان کارروائیوں کے اثرات بین الریاستی تعلقات، حقوقِ انسانی اور انسانی ہمدردی سے متعلق اُمور پر بھی پڑتے ہیں۔

’’(امریکہ پر) دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور اُمید ہے کہ اس معاملے پر پاکستان کا موقف تسلیم کیا جائے گا ... یہ حکمتِ عملی کارگر ثابت ہو رہی ہے، ہمیں اس کو کچھ اور وقت دینا چاہیئے اور ہمیں اُمید ہے کہ اس (ڈرون حملوں کے) مسئلے کا کوئی بہتر حل سامنے آ جائے گا۔‘‘


وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اس خبر پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا جس میں خفیہ دستاویز کی بنیاد پر کہا گیا کہ پاکستان کے اعلیٰ عہدیدار کئی برسوں تک ڈرون حملوں کی توثیق کرتے رہے۔

’’کسی اخباری خبر پر اور وہ بھی جہاں گمنام ماخذ بیان کیے جائیں اُس کے اُوپر ہم تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ لیکن جہاں تک ان دعوؤں کا تعلق ہے کہ پاکستان کی کوئی مرضی شامل ہے، ہماری موجودہ حکومت نے واشگاف الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ ڈرون حملے ختم ہونے چاہیئں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف سمجھتا ہے۔

’’پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر اس معاملے پر مکمل اتفاق رائے ہے۔ اس ہی وجہ سے آپ نے دیکھا کہ حالیہ دورے میں یہ کتنی شد و مد سے اعلٰٰی سطح پر اس معاملے کو اٹھایا گیا اور آہستہ آہستہ بین الاقوامی برادری بھی اس کے پیچھے آ رہی ہے۔ تو ہمیں امید ہے کہ یہ معاملہ کسی منطقی انجام کو پہنچے گا۔‘‘

ادھر پاکستان کے وفاقی وزیرِ برائے دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ڈرونز کو مار گرانا مشکل نہیں لیکن ان کے ذریعے ہونے والے حملوں کو رکوانے کے لیے دیگر ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔

’’یہ (ڈرون کو مار گرانا) اسٹریٹیجک فیصلے ہوتے ہیں اس طرح اُٹھ کر تو ہم نہیں کر سکتے کہ ابھی گرا دو۔ ابھی بات کر رہے ہیں ان سے اور آپ دیکھیں کہ اس کے خاطر خواہ نتائج نکلیں گے، ڈرون حملوں میں فرق بھی پڑے گا اور رک بھی جائیں گے۔‘‘

مزید برآں اعزاز احمد چودھری نے وزیرِ اعظم پاکستان کے حالیہ دورہِ واشنگٹن کو کامیاب دورہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ’’متعدد اشارے دیے گئے‘‘ اور تمام تحفظات اور دوطرفہ اُمور پر شفاف انداز میں نقطہ نظر بیان کیا گیا۔

’’اولین کامیابی یہ ہوئی کہ پاک امریکہ تعلقات کی بنیاد اب باہمی احترام اور مفاد بن چکے ہیں جو ناصرف پاکستان بلکہ امریکہ کے عوام کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔‘‘


ترجمان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت میں پاکستانی نژاد امریکی شہری عافیہ صدیقی کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا، تاہم اُنھوں نے اس مفروضے کی صریحاً تردید کی کہ عافیہ صدیقی کی ممکنہ واپسی کے بدلے اسامہ بن لادن کی تلاش میں امریکی سی آئی اے کو مدد دینے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کی حوالگی کا کوئی منصوبہ زیرِ غور ہے۔

’’شکیل آفریدی نے پاکستان کے قانون کی خلاف ورزی کی ہے اور اس پر پاکستان کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے اور صرف پاکستان کی عدالت اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرے گی، یہ بات (امریکہ پر) واضح کر دی گئی ہے۔ جمہوری حکومت عدالتی عمل میں مداخلت نہیں کرتی۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف کا چار روزہ دورہ امریکہ رواں ہفتے ختم ہوا اور پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کا عمومی تاثر یہ ہی ہے کہ اس دورے میں پاکستانی موقف موثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔
XS
SM
MD
LG