رسائی کے لنکس

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہاٹ لائن پر یہ رابطہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا جس میں بھارت کے ڈٓائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا کہنا تھا کہ اُن کی فورسز شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ جواب میں ہی فائرنگ کی جاتی ہے۔

پاکستان اور بھارت کے ڈٓائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز ’ڈی جی ایم اوز‘ کے درمیان پیر کو ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز نے بھارتی فورسز کی طرف سے مبینہ طور پر کشمیر کو تقسیم کرنے والی حد بندی لائن ’ایل او سی‘ پر دانستہ طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہاٹ لائن پر یہ رابطہ پاکستان کی درخواست پر کیا گیا جس میں بھارت کے ڈٓائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کا کہنا تھا کہ اُن کی فورسز شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی بلکہ جواب میں ہی فائرنگ کی جاتی ہے۔

اسی طرح پاکستان کی طرف سے شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کے اس پار آباد شہریوں کو بھی بھائی تصور کرتا ہے اور ’’بطور پیشہ ور فوج نے پاکستان (شہریوں کو نشانہ بنانے) کی سرگرمیوں میں کبھی ملوث نہیں رہا۔‘‘

آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر مبینہ طور پر بھارت کی طرف سے فائرنگ بندی معاہدے کی 1140 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی جس میں 45 شہری ہلاک اور 192 زخمی ہوئے۔

بھارت کی طرف سے بھی پاکستان پر ایسے ہی الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

گزشتہ ہفتےہی پاکستان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس نے لائن آف کنٹرول پر پاکستانی حدود میں ایک غیر مسلح بھارتی جاسوس ڈرون کو مارا گرایا۔

دونوں ملکوں کے درمیان 2003 میں فائر بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، لیکن گزشتہ لگ بھگ دو سال سے کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے علاوہ ورکنگ باؤنڈری پر بھی دونوں ممالک کی سرحدی فورسز کے درمیان تواتر کے ساتھ فائرنگ و گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، جس میں دونوں جانب نہ صرف فوجی بلکہ درجنوں عام شہری بھی مارے جاچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG