رسائی کے لنکس

logo-print

شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں نرمی کا خیر مقدم


شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں نرمی کا خیر مقدم

پاکستان اور بھارت کے مابین رواں سال مارچ میں امن مذاکرات کی بحالی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں عوامی سطح پر رابطے بڑھانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا بھی شامل تھا اور اس سلسلے میں اہم پیش رفت نئی دہلی میں ہونے والے ایک اجلاس میں ہوئی جس میں شہریوں کی سفری سہولت کے لیے ویزوں کے اجرا میں نرمی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پاکستانی اراکین پارلیمنٹ اور مبصرین اسے ایک اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ حکمران اتحاد میں شامل مسلم لیگ (ق) کے سینیڑ ایس ایم ظفر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سرکاری عہدیداروں کی سطح پر مذاکرات کے علاوہ پاکستان اور بھارت کے اراکین پارلیمنٹ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے عوامی سطح پر رابطوں کو بڑھانا اشد ضروری ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں پاکستان کے وزیر تجارت امین فہیم کی سربراہی میں تاجروں کے ایک وفد نے بھارت کا دورہ کیا تھا جس میں دونوں ملکوں میں کاروباری حلقوں کے درمیان رابطوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بھی اہم فیصلے کیے گئےتھے جس میں سب سے نمایاں تاجروں کا ایک سال کے لیے ’ملٹی پل‘ ویزوں کا اجرا شامل تھا۔

تجریہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے شہریوں اور تاجروں کے لیے ویزوں کے اجراء میں آسانی سے امن عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں نرمی کے لیے پاک بھارت کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دو روزہ اجلاس جمعہ کو نئی دہلی میں ختم ہواجس میں ایک سے دوسرے ملک سفر کرنے کے خواہش مند افراد کو 3 سے زائد شہروں کے ویزے دینے پر اتفاق کرنے کے ساتھ ساتھ عمر رسیدہ افراد کو خصوصی سفری سہولت کی فراہمی پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG