رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: پاکستان ایران تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور


پاک ایران مشترکہ سرحدی کمیشن کے تیئیسویں اجلاس میں دونوں ممالک کے مابین تجارتی و معاشی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایسے اقدامات سے دونوں ملکوں کے کاروباری طبقے کی معاشی حالت مستحکم ہوگی اور تجارت کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔

سہ روزہ اجلاس جمعے کے دن کوئٹہ میں اختتام پذیر ہوا؛ جس کی سربراہی چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر اور ڈپٹی گورنر سیستان بلوچستان محمد ہادی مرعشی نے کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فضیل اصغر نے کہا کہ کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد ضروری ہے، جب کہ سرحدوں پر جو عام نوعیت کے مسائل پیش آتے ہیں انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرنا ہوگا، جب کہ سرحد پر پرامن فضا قائم کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کو تجارتی سرگرمیوں میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چائیے، جس سے دونوں ملک کی معشیت مستحکم ہوگی۔

ڈپٹی گورنر سیستان بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک بھائیوں کی طرح ہیں جنھوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ لہذا، بقول ان کے، ’’تعاون کا یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا‘‘۔

اجلاس کے اختتام پر چیف سیکرٹری بلوچستان اور ڈپٹی گورنر سیستان بلوچستان نے ایک یادداشت پر دستخط کیے۔

سرکاری بیان کے مطابق، بدھ کے اجلاس میں پیٹرول کی غیرقانونی اسمگلنگ پر اعراض اٹھایا گیا، اور بتایا گیا کہ صوبے میں گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 348 ملین لٹر اسمگل شدہ ایرانی تیل قبضے میں لیا، جبکہ یہ تیل پاکستان کے مختلف حصوں میں جاتا ہے جس سے معیشت کی روانی متاثر ہوتی ہے۔

ڈپٹی گورنر سیستان بلوچستان محمد حادی مرعشی نے بلوچستان کی جانب سے اُٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران ہر طرح سے پاکستان اور بلوچستان کے ساتھ تعاون کرے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG