رسائی کے لنکس

logo-print

ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر مالی امداد کے لیے رضامند


ایران پاکستان گییس پائپ لائن منصوبے کے تحت گیس کی یومیہ 750 ایم ایم ایف مقدار دستیاب ہو گی جس میں دونوں ممالک کی رضامندی سےیومیہ ایک ہزار ایم ایم ایف تک اضافہ کیا جا سکے گا۔

حکومت نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ ایرانی حکومت نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے لئے 25 کروڑ امریکی ڈالر فراہم کرنے پر اصولی طور پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

جمعہ کو وزیر اعظم کے مشیر برائے پٹرولیم و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین نے پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کو وقفہ سوالات میں ارکان کے سوالوں کے تحریری جواب میں بتایا کہ اس منصوبے کے لئے مالی امداد کی فراہمی پر رضامندی کے بعد ا ب پاکستان اور ایران کے نمائندوں میں معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دینے کے لئے بات چیت جاری ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ ایران پاکستان گییس پائپ لائن منصوبے کے تحت گیس کی یومیہ 750 ایم ایم ایف مقدار دستیاب ہو گی جس میں دونوں ممالک کی رضامندی سےیومیہ ایک ہزار ایم ایم ایف تک اضافہ کیا جا سکے گا۔

’’ قدرتی گیس کے تیزی سے ختم ہوتے ہوئے ذخائر اور قدرتی گیس کی طلب میں اضافے کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کر رہی ہے جن میں ترکمانستان سے گیس کی درآمد اور ایل این جی کی درآمد شامل ہے تاکہ طلب و رسد کے تیزی سے بڑھتے ہوئے فرق کو پورا کیا جا سکے۔‘‘

مشیر پٹرولیم کے مطابق اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے تحت گیس کی سپلائی طلب و رسد کے 50 فیصد سے کم فرق کو پورا کرے گی۔


وا ضح رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 2010ء میں طے پانے والے دو طرفہ معاہدے کے تحت ایران نے 2014ء سے پاکستان کو قدرتی گیس کی برآمد شروع کرنا تھی۔

گیس کی فراہمی ایران کے جنوبی ذخائر سے کی جائے گی جس کے لیے پاکستان کی سرحد تک 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی جانی ہے، جب کہ قدرتی گیس کو درآمد کرنے کے لیے پاکستان کے اندر بھی 800 کلومیٹر طویل پائپ لائن کے بچھانے کا کام کیا جانا ہے۔

امریکہ نے پہلے ہی ایران میں تیل و گیس کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پابندیوں کے خوف سے بین الاقوامی مالیاتی ادارے تقریباً ساڑھے سات ارب ڈالر لاگت کے ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے سے دور رہے ہیں۔

گزشتہ مہینے پاکستان کی وفاقی کابینہ نے ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایران سے گیس کی درآمد کےاس اہم منصوبے کی منظوری دے کرمنصوبے سے متعلق درکار مالی وسائل کے حصول کے لیے وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔
XS
SM
MD
LG