رسائی کے لنکس

logo-print

پاک ایران سرحد پر مشترکہ گشت شروع


ایرنی حکام یہ الزام لگاتے آئے ہیں کہ کالعدم ایرانی انتہا پسندتنظیم جنداللہ کے جنگجو پاکستانی علاقوں کو ایران میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں

پاکستان اور ایران نے منگل کے روز سے دونوں ملکوں کے درمیان 700کلومیٹر طویل سرحد پر مشترکہ گشت شروع کردیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ زاہدان میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کے درمیان بات چیت میں کیا گیا تھا اور اس کا مقصد منشیات سمگل کرنے والے گروہوں اور مشتبہ دہشت گردوں کی غیر قانونی نقل وحرکت کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

واضح رہے کہ ایرنی حکام یہ الزام لگاتے آئے ہیں کہ کالعدم ایرانی سنی انتہا پسند جنداللہ کے جنگجو پاکستان کی جانب بلوچستان کے علاقوں کو ایران میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ گزشتہ اکتوبر میں ایران کے ایک سرحدی شہر میں جنداللہ کے عسکریت پسندوں کے خودکش حملے میں پاسداران انقلاب کے کئی اعلیٰ کمانڈروں سمیت 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ایرانی حکومت نے یہ الزام لگاتے ہوئے کہ حملہ آور سرحد عبور کرکے پاکستان کی جانب سے آئے تھے یک طرفہ طور پر سرحد کو بند کردیا اور تاحال یہ صورتحال برقرار ہے۔

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ ایرانی حکام سے سرحد دوبارہ کھولنے پر بات چیت جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ ماہ معمول کی آمدورفت کے لیے پاک ایران سرحد کھول دی جائے گی۔

افغانستان میں کاشت کی جانے والی منشیات کی بڑ ی مقدار بھی پاکستان اور ایران کو ملانے والی اس سرحد سے بیرون دنیا کو سمگل کی جاتی ہے اور ایرانی سرحدی فورس اور سمگلروں کے درمیان فائرنگ کے واقعات ایک معمول کی کارروائی ہیں۔

XS
SM
MD
LG