رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی عدالتوں میں ملزمان کو صفائی کا پورا موقع ملے گا: چوہدری نثار


وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان ایسی حالت جنگ میں ہے جہاں دوسری جانب ’’دہشت گرد‘‘ اپنے ہر اقدام کو جائز سمجھتے ہیں۔

دہشت گردی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کی فوری سماعت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام اور انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت قوانین میں مجوزہ ترامیم کے مسودے پر قومی اسمبلی میں پیر کو بحث کا آغاز ہوا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا کہ پاکستان ایسی حالت جنگ میں ہے جہاں دوسری جانب ’’دہشت گرد‘‘ اپنے ہر اقدام کو جائز سمجھتے ہیں۔

پارلیمان کے ایوان زیریں یعنی ’قومی اسمبلی‘ میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کے بارے میں ایوان کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو غیر معمولی صورت حال کا سامنا ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں صرف دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے۔

’’پاکستان کے کسی عام شہری کا مقدمہ فوجی عدالت میں نہیں چلے گا، کسی سیاست دان کا، کسی تاجر کا، کسی دوکاندار کا، کسی میڈیا پرسن (صحافی) کا، حتیٰ کہ (میں یہ کہنا چاہوں گا کہ) معاشرے کے کسی بھی طبقے کے مقدمات فوجی عدالتوں میں نہیں چلیں گے۔‘‘

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے سے قبل موجودہ عدالتی نظام کے تحت دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کو تیزی سے چلانے کے لیے قانون سازی کی کوشش کی گئی۔ لیکن اُن کے بقول دہشت گرد سویلین عدالتوں کے ججوں کو براہ راست سنگین دھمکیاں دیتے تھے۔

’’ایک طرف مقدمہ شروع ہوتا تو دوسری طرف سے دھمکیاں شروع ہو جاتیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ یہ بات درست نہیں کہ حکومت یا فوج ہر کسی کو ’لٹکانا‘ یا مارنا چاہتی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج قانونی حدود میں کام کرتی ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں چلائے جانے والے ہر مقدمے میں ملزمان کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔

’’ہر لحاظ سے ہر انسانی جان کو خواہ وہ دہشت گرد ہی کیوں نہ ہو، اس کو صفائی کا پورا موقع دیا جائے گا۔ ہر کسی کو چھان بین کر کے فوجی عدالت میں بھیجا جائے گا اور فوجی عدالت میں ان کو اپنی صفائی پیش کرنے کی پوری چھٹی اور گنجائش ہو گی۔‘‘

پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ خصوصی عدالتوں کا قیام فوج کی خواہش نہیں ہے بلکہ یہ غیر معمولی حالات کا تقاضا ہے۔

پاکستان میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 21ویں آئینی ترمیم کے بل کے علاوہ آرمی ایکٹ 1952ء میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں گزشتہ ہفتے کے روز پیش کیا گیا۔

حکومت کی ایک حلیف جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کو نئی آئینی ترامیم کے حوالے سے بعض تحفظات ہیں اور اس جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت سے کہا تھا کہ موجودہ مسودہ قانون پر نظر ثانی کی جائے۔

ان آئینی ترامیم پر ووٹنگ منگل تک موخر کر دی گئی۔

نئی آئینی ترامیم کا مقصد پاکستان کے خلاف جنگ کے مرتکب اور دہشت گردی کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کو تیزی سے نمٹانا اور شرپسند عناصر کی سرکوبی کے لیے موثر اقدامات کرنا ہے۔

ترمیم شدہ آرمی ایکٹ کے تحت پاکستان کے خلاف جنگ کرنے، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملہ کرنے، سول و فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے، دھماکا خیز مواد رکھنے یا کہیں منتقل کرنے اور مذہب کے نام پر ہتھیار اٹھانے والوں کے خلاف مقدمہ چلا کر سزائیں سنائی جا سکیں گی۔

مزید برآں اغواء برائے تاوان اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والوں کے خلاف بھی اسی قانون کے تحت کارروائی کی جا سکے گی۔

پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں فوج کے زیرانتظام اسکول پر 16 دسمبر کو طالبان کے حملے میں 133 بچوں سمیت 149 افراد کی ہلاکت کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG