رسائی کے لنکس

logo-print

فوجی عدالتوں میں توسیع کے لیے وفاقی حکومت کی مشاورت


پاکستان کی وفاقی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ فوجی عدالتوں کی بحالی اور اُن مدت میں توسیع پر غور کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے آئینی ترمیم پر پہلے ہی سے مشاورت جاری ہے۔

اس بات کا اعلان وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں پیر کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا گیا۔

اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے ڈائریکٹر جنرل لفٹیننٹ جنرل نوید مختار بھی شریک تھے۔

واضح رہے کہ ملک میں قائم دو سال کے لیے فوجی عدالتوں نے اپنی مدت ختم ہونے پر گزشتہ ہفتہ کو اپنا کام بند کر دیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فوجی عدالتوں کی بحالی اور توسیع کی خاطر آئینی ترمیم پر وفاقی حکومت نے پہلے ہی مشاورت شروع کر رکھی ہے۔

بیان کے مطابق فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع مخصوص وقت کے لیے ہو گی اور اس کا تعین پارلیمان میں موجود سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔

اجلاس میں کہا گیا کہ فوجی عدالتوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی نازک وقت پر بہت اہم کردار ادا کیا اور آپریشن ضرب عضب میں ملنے والی کامیابیوں کو بامعنی بنایا۔

پاکستان میں بہت سے حلقے بشمول سیاسی جماعتوں کی طرف سے کہا جاتا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں توسیع مسئلے کا حل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر پشاور میں 2014ء میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت کے ایک ہنگامی مشاورتی اجلاس میں دو سال کی مدت کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے آئین میں ترمیم بھی کی گئی۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں ان عدالتوں کے قیام اور ان میں چلائے جانے والے مقدمات میں مبینہ طور پر انصاف کے تقاضے پورے نا کیے جانے سے متعلق سوالات اٹھاتی رہی ہیں۔

پاکستانی فوج کی طرف سے اتوار کو جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد ان میں 274 مقدمات بھیجے گئے جن میں سے 161 میں مجرموں کو سزائے موت جب کہ 113 کوقید کی سزائیں سنائی گئیں۔

بیان کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں سے 12 مجرمان کی سزا پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ فوجی عدالتوں میں جن ملزمان کے خلاف مقدمات چلائے گئے اُنھیں نا صرف صفائی کا پورا موقع دیا گیا بلکہ وکیل کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

جب کہ سرکاری طور پر یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ ملک کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے اس لیے حالات غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG