رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں یوم عاشور کے موقع سکیورٹی ہائی الرٹ


اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان کے شہروں جیکب آباد اور بولان میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کیا ہے۔

پاکستان میں ہفتہ کو سخت سکیورٹی انتظامات میں یوم عاشور کے سلسلے میں شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والوں نے ماتمی جلوس نکالے۔

گزشتہ دو روز میں دو مختلف شیعہ مجالس پر ہونے والے خودکش بم حملوں کے بعد پورے ملک میں پہلے سے سخت حفاظتی انتظامات کو مزید بڑھا دیا گیا تھا۔

جمعہ کو سندھ کے شہر جیکب آباد میں ہونے والے خودکش حملے میں کم ازکم 22 جب کہ جمعرات کو بلوچستان کے علاقے بولان میں ہونے والے ایسے ہی واقعے میں کم ازکم 10 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

ہفتہ کو تمام چھوٹے بڑے شہروں میں یوم عاشور کے جلوس نکالے گئے۔ ہر علاقے میں چھوٹی بڑی ماتمی ٹولیاں مرکزی جلوس میں شامل ہوتی رہیں جو اپنے اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں رہے۔

جلوس میں شریک ٹولیوں کی حفاظت کے لیے ہزاروں کی تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی جب کہ مختلف شیعہ تنظیموں کے رضا کار اپنے طور پر بھی حفاظتی دستے بنا کر جلوسوں کے ساتھ چلتے رہے۔

ملک بھر میں 60 سے زائد شہروں میں دن بھر موبائل فون سروس بھی معطل رہی جس کی وجہ سے لوگوں کو باہمی رابطوں میں بھی کسی قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

ماہ محرم میں پیغمبر اسلام کے نواسے حضرت امام حسین اور ان کے ساتھیوں کی کربلا میں شہادت کی یاد میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مجالس اور عزاداری کا اہتمام کرتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے اس دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا کہ "واقعہ کربلا ہمیں باطل کے سامنے ڈٹ جانے اور حق بات کہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔"

ان کے بقول اس نازک صورتحال میں ہمیں فروعی، مسلکی، لسانی اور صوبائی اختلافات کو بھلا کر اپنے اندر مساوات، رواداری، اتحاد، نظم و ضبط اور قربانی کے اوصاف پیدا کرنا ہوں گے۔

پاکستان میں ان دنوں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات بھی ہوتے رہے ہیں اور اسی بنا پر ان دنوں میں ملک کے مختلف علاقوں کو حساس قرار دیا جاتا ہے جب کہ پورے ملک میں سکیورٹی انتہائی سخت رہتی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان کے شہروں جیکب آباد اور بولان میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے اظہار افسوس کیا ہے۔

ایک بیان میں انھوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے تمام شہریوں سمیت اقلیتوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔

XS
SM
MD
LG