رسائی کے لنکس

logo-print

’نیشنل ایکشن پلان‘ پر عمل درآمد حتمی کامیابی کے لیے ضروری ہے: جنرل راحیل


جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں ملک میں جاری انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کی رفتار میں کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا کہ یہ صورت حال دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کو متاثر کر رہی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ انسداد دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کا جائزہ ایسے وقت لیا گیا جب رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں اس بارے میں تفصیلی مشاورت کی گئی اور اس موقع پر جنرل راحیل شریف بھی موجود تھے۔

جمعہ کو ہونے والے اجلاس کے موقع پر جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی میں انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ جب تک انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عملدرآمد کی خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، اُس وقت تک ملک میں امن و استحکام کا قیام اور دہشت گردی کی باقیات ختم نہیں ہو سکتیں۔

دفاعی تجزیہ کار لفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بات درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ملنے ملنے والی کامیابیوں کو دیرپا اُسی صورت بنایا جا سکتا ہے جب انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اجلاس میں یہ بھی کہا کہ گیا کہ کچھ حلقوں کی جانب سے اشتعال انگیز بیان دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے لیے نقصان دہ ہیں۔

اس کی وضاحت تو نہیں کی گئی لیکن کوئٹہ میں ہونے والے مہلک خودکش بم حملے کے بعد رواں ہفتے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور بعض دیگر قانون سازوں نے ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارکردگی پر سولات اٹھائے تھے۔

تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور سکیورٹی فورسز پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے ایسے بیانات کو رد کیا تھا۔

جمعہ کی شام اسلام آباد میں نیوز بریفنگ میں بھی چوہدری نثار نے کہا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی حملوں کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ناکام بنایا گیا اور اُن کے بقول دہشت گردوں کی طرف سے کسی بھی حملے کا مقصد مایوسی پھیلانا ہوتا ہے اس لیے اتحاد کا پیغام دینا ضروری ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا تھا کہ ’’ ہم پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ آگے بڑھیں گے، اور دہشتگردی کا قلع قمع کر کے دم لیں گے۔‘‘

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’’آپریشن ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان قومی قیادت کا اتفاق رائے سے منظور کردہ ایجنڈا ہے۔ جسے ہر قیمت پر مکمل کیا جائے گا۔‘‘

رواں ہفتے ہی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ایک ٹاسک فورس قائم کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، جس میں متعلقہ صوبائی و وفاقی شعبوں اور ایجنسیوں کے سینیئر نمائندے شامل ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG