رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: فضائی کارروائی میں ’65 دہشت گرد ہلاک‘


اُدھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بحریہ کی ایک اہم تنصیب نیوی ڈاک یارڈ پر ہونے والا دہشت گرد حملہ اندرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں تازہ فضائی کارروائیوں میں 65 دہشت گرد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کی شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق بدھ کی صبح دتہ خیل کے شمال مغرب میں فضائی کارروائی کی گئی جس میں 35 عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی میں دہشت گردوں کے تین ٹھکانوں کو بھی تباہ کیا گیا۔

اس کے چند گھنٹوں بعد ایک اور بیان جاری کی گیا جس میں بتایا گیا کہ شوال کے علاقے میں کی گئی فضائی کارروائی میں مزید 30 دہشت گردوں کو ہلاک اور ان کے زیر استعمال دو ٹھکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔

شمالی وزیرستان میں ذرائع ابلاغ کی رسائی نا ہونے کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اُدھر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بحریہ کی ایک اہم تنصیب نیوی ڈاک یارڈ پر ہونے والا دہشت گرد حملہ اندرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

’’اندرونی امداد کوخارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا، بغیر اندر کی مدد کے یہ لوگ سیکورٹی (حصار) کو توڑ نہیں سکتے تھے اور اس وقت جو تحقیقات جاری ہے وہ کامیابی سے جاری ہیں اور امید ہے کہ اس واقع کی تمام جزویات کی جانچ کر لی جائے گی۔۔۔ جن لوگوں نے حملہ کیا تھا وہ مارے جا چکے ہیں یا وہ پکڑے جا چکے ہیں۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتہ کے روز ہونے والے اس حملے کو بحریہ نے کامیابی سے اس پسپا کر دیا تھا۔

’’یہ بڑا کامیاب آپریشن تھا کہ اس حملے میں تقریباً سات لوگ جو پہلے داخل ہوئے تھے ان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور تین تخریب کاروں کو مار دیا گیا ہے تخریب کاروں میں نیوی کا سابق افسربھی شامل تھا جس کو مئی 2013 میں نوکری سے برخواست کیا گیا تھا اس کے تانے بانے زیادہ سے زیادہ جو اس وقت آپریشن ضرب عضب جاری ہے اس کے رد عمل سے جوڑے جا سکتے ہیں کہ یہ اس کا ردعمل ہے۔‘‘

وزیر دفاع نے بتایا کہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں سے اسلحہ اور خودکش حملوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس بھی ملی ہیں۔

’’تخریب کاروں سےتین اے کے 47 برآمد ہوئیں، چار تیس بور کے پستول ، نائن ایم ایم کے پانچ پستول۔۔۔ تین سیٹلائیٹ فون، چار خودکش جیکٹس اور24 ہتھکڑیاں برآمد کی گئی۔‘‘

اُنھوں نے بتایا کہ نیوی ڈاک یارڈ پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کے رابطے شمالی وزیرستان سے بھی ملتے ہیں۔

فوج نے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں ملکی اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف اس سال 15 جون سے فوجی آپریشن شروع کیا تھا، جس میں فوج کے مطابق اب تک نو سو سے زائد دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

شمالی وزیرستان سے اس فوجی آپریشن کے باعث چھ لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔ نقل مکانی کرنے والے افراد صوبہ خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں میں مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG