رسائی کے لنکس

logo-print

علاقائی اُمور پر پاکستان اور روس کا پہلا مشاورتی اجلاس


وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے عہدیداروں نے اہم بدلتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی اُمور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان اور روس کے درمیان علاقائی معاملات پر پہلا مشاورتی اجلاس اسلام آباد میں ہوا۔

وزارت خارجہ سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق 13 دسمبر کو ہونے والے ان مذاکرات میں مہمان وفد کی قیادت روس کی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار الیگزینڈر وی سٹرنیک نے کی، جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی وزارت خارجہ میں تعینات ڈائریکٹر برائے مغربی ایشیا احمد حسین نے کی۔

اس مشاورتی بات چیت میں تمام علاقائی معاملات کے علاوہ باہمی دلچپسی کے شعبوں بشمول اقتصادی تعاون اور رابطوں سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں ممالک کے عہدیداروں نے اہم بدلتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی اُمور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں کہ خاص طور پر کون سے علاقائی اُمور اس بات چیت کا محور تھے اور اُن میں کیا پیش رفت ہوئی۔

وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا کہ اس مشاورتی بات چیت کا آئندہ دور 2017 میں ماسکو میں ہو گا۔

پاکستان اور روس کے تعلقات میں حالیہ برسوں میں گرم جوشی دیکھی گئی ہے اور رواں سال دونوں ملکوں کے درمیان پہلی مرتبہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی پاکستان میں ہوئیں۔

جب کہ پاکستان نے گزشتہ ماہ تصدیق کی تھی کہ افغانستان سے متعلق ماسکو میں ایک سہ فریقی اجلاس ہو گا جس میں روس کے علاوہ پاکستان اور چین بھی شریک ہوں گے۔

دفاعی اور علاقائی اُمور پر دونوں ملکوں کے حالیہ روابط سے قریبی تعلقات کی غمازی ہوتی ہے۔

سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ خطے میں جو نئے اتحاد بن رہے ہیں وہ ابتدائی مراحل میں ہیں اس لیے یہ واضح نہیں کہ آئندہ یہ روابط کیا رخ اختیار کریں گے۔

تاہم اُن کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان اور روس کے کئی مشترکہ مفادات ہیں جن کی بنیاد پر تعاون فروغ پا سکتا ہے۔

’’ایک تو وسطی ایشیا ہے، جہاں روس کے مفادات ہیں اور پاکستان بھی اس خطے تک رسائی چاہتا ہے۔‘‘

رستم شاہ کے بقول پاکستان دفاعی ٹیکنالوجی کا حصول بھی چاہتا ہے اس لیے بھی اسلام آباد اور ماسکو کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔

’’دفاعی ٹیکنالوجی میں پاکستان روس کے ساتھ اپنا تعاون اس لیے بڑھائے گا کیوں کہ پاکستان کو اپنے دفاعی ہتھیاروں کو متنوع بنانا ہے اور روس کی دفاع کی بہت بڑی صنعت ہے۔۔۔ اس کے علاوہ روس اس خطے کا اہم ملک ہے تو پاکستان چاہے گا کہ روس کے اور زیادہ قریب ہو جائے۔‘‘

گزشتہ ماہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی سامنے آئی تھیں کہ روس پاک چین اقتصادی راہداری میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن بعد میںروس کی وزارت خارجہ نے ایسی خبروں کی نفی کی کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری پر روس پاکستان کے ساتھ کسی طرح کے خفیہ مذاکرات کر رہا ہے۔

تاہم روسی وزارت خارجہ کی طرف سے کہا گیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی روابط بشمول نارتھ ساؤتھ مجوزہ گیس پائپ لائن بچھانے سے متعلق تعاون کو اہمیت دیتا ہے۔

پاکستان اور روس کے تعلقات میں بہتری 2014 کے بعد سے آئی جب روس نے پاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر عائد پابندی اٹھا لی تھی۔

XS
SM
MD
LG