رسائی کے لنکس

logo-print

شاہ سلمان کے بعد پاکستانی وفد کی صدر روحانی سے اہم ملاقات


وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم ہو اور تناؤ کا حل پرامن طریقے سے نکالا جائے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے ایک روزہ دورے کے بعد منگل کو تہران پہنچے۔

پاکستانی قیادت کے اس دورے کا مقصد سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کرنا ہے۔

تہران پہنچنے کے بعد پاکستانی قیادت نے ایران کے صدر حسن روحانی اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے تہران میں ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان سے الگ ملاقات بھی کی۔

بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور یہ پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق تہران پہنچنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم ہو اور تناؤ کا حل پرامن طریقے سے نکالا جائے۔

ایران پہنچنے سے قبل طیارے میں پاکستانی وزیراعظم اور فوج کے سربراہ کے درمیان اس معاملے پر مشاورت بھی ہوئی۔

اس اہم دورے پر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ فوج کے سربراہ کا سعودی عرب اور ایران جانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اسلام آباد کو حالیہ کشیدگی پر کس قدر تشویش ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان اسلامی ممالک کی تنظیم ’او آئی سی‘ کے رکن ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کے فروغ کا خواہاں ہے اور مسلمان ممالک کے درمیان اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے کے لیے بھی پاکستان ہمیشہ کردار ادا کرنے کو تیار رہا ہے۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے سعودی عرب اور تہران میں حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا کہ مسلمان اُمت کے وسیع تر مفاد اور موجودہ مشکل حالات میں اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے جلد حل کیا جانا چاہیئے۔

بیان کے مطابق بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پاکستانی قیادت کی طرف سے شروع کی گئی کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُن کا ملک مسلمان ممالک کے مابین ہم آہنگی کے لیے ہمیشہ کوشش کرتا رہا ہے۔

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ دونوں ملکوں کا دورہ اس بات کا آئینہ دار ہے کہ اسلام آباد سعودی عرب اور ایران سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔

اُدھر پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں ایک بیان میں کہا کہ امن کے لیے سعودی قیادت کا پاکستان کی کوششوں کے بارے میں ابتدائی ردعمل مثبت اور حوصلہ افزا تھا۔ اُنھوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ ’’ایران بھی خوش دلی‘‘ کے ساتھ اس کا جواب دے گا۔

سعودی عرب اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر پاکستان میں عمومی طور پر خاصی تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کیوں کہ قانون سازوں اور مبصرین کا کہنا تھا کہ اس تناؤ کو فرقہ واریت کے تناظر میں دیکھا گیا تو اس کے اثرات پاکستان پر پڑ سکتے ہیں۔

پاکستان کے سعودی عرب اور ایران دونوں سے قریبی تعلقات ہیں اور اس لیے اس حساس معاملے کے حل کے لیے پاکستانی قیادت نے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی شروعات کیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں سعودی عرب میں ایک شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کی سزائے موت پر عمل درآمد کے بعد سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کی شروعات ہوئیں۔

پہلے ایران کی طرف سے شیخ نمر کی سزائے موت پر عمل درآمد کے خلاف تنقید کی گئی اور اُس کے بعد مشتعل ایرانی مظاہرین نے تہران اور مشہد میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور قونصل خانے کی عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی۔

اس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے اپنے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے ہاں موجود تمام ایرانی سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

XS
SM
MD
LG