رسائی کے لنکس

logo-print

سینیٹ: وزیر داخلہ سے مولانا عبدالعزیز کے بارے میں وضاحت طلب


وزیر داخلہ نے 30 دسمبر 2015ء کو سینیٹ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ مولانا عبد العزیز کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں اس لیے اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز کے بارے میں ایوان میں دیئے گئے اپنے ایک بیان کی وضاحت کریں۔

وزیر داخلہ نے 30 دسمبر 2015ء کو سینیٹ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ مولانا عبد العزیز کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہیں اس لیے اُن کے خلاف کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔

سینیٹ کا جمعہ کو جب اجلاس شروع ہوا تو حزب مخالف کی جماعت پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے وزیر داخلہ چوہدری نثار کے مولانا عبدالعزیز سے متعلق بیان پر سوالات اٹھاتے ہوئے کچھ دستاویزات سینیٹ میں پیش کیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے پولیس کی طرف سے مولانا عبدالعزیز کے خلاف دائر کردہ ایک ’ایف آئی آر‘ بھی جمع کروائی۔

اُنھوں نے اس کے علاوہ بھی کچھ تحریری دستاویزات ایوان میں جمع کروائیں جن میں سے ایک پولیس کی طرف سے عدالت میں جمع کروایا گیا وہ بیان بھی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز روپوش ہیں اور اُنھیں اشہتاری قرار دیا گیا ہے۔

جب کہ ایوان میں پیش کی گئی ایک اور دستاویز ’پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی‘ یعنی (پی ٹی اے) کی طرف سے موبائل فون کمپنیوں کو بھیجی اُس ہدایت سے متعلق تھی جس میں کہا گیا تھا کہ جمعہ کے خطبے کے دوران لال مسجد اور اس کے اردگر کے علاقوں میں موبائل فون سروس بند رکھی جائے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ان تمام دستاویزات کے ہوتے ہوئے وزیر داخلہ سے پوچھا جائے کہ اُنھوں نے یہ بیان کیوں دیا کہ لال مسجد کے سابق خطیب کے خلاف نا کوئی مقدمہ درج ہے اور نا ہی شواہد ہیں جن کی بنیاد پر مولانا عبدالعزیز کے خلاف کارروائی کی جائے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات اور وزیر داخلہ کے 30 دسمبر 2015 کے بیان کا ریکارڈ وزارت داخلہ کو بجھوایا جائے اور اُن سے اس بارے میں وضاحت پیش کی جائے۔

واضح رہے کہ لال مسجد کے سابق خطیب کی طرف سے حالیہ متضاد بیانات کے بعد اُن کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG