رسائی کے لنکس

logo-print

عدم برداشت اور انتہا پسندی نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا: چوہدری نثار


وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی کی مستقل نگرانی کو یقینی بنانا چاہیئے اور اُن کے بقول یہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر موثر عمل درآمد تمام فریقوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اسلام آباد میں ایک اہم تعلیمی ادارے ’نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی‘ میں پاکستان کی داخلی سلامتی سے متعلق ایک کلیدی بیان میں چوہدری نثار نے کہا کہ عدم برداشت، انتہاء پسندی اور دہشت گردی سے عشروں تک پاکستان کو نقصان پہنچا۔ اُنھوں نے کہا کہ اب برداشت اور ترقی پسند معاشرے کی جانب سفر کٹھن ہے اور اس کے لیے پاکستان نے بہت قربانیاں دیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی کی مستقل نگرانی کو یقینی بنانا چاہیئے اور اُن کے بقول یہ وفاقی و صوبائی حکومتوں اور ریاستی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ تمام اداروں کو ملک سے انتہاءپسندی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی کوششیں کرنا ہوں گی۔

چوہدری نثار نے داخلی سلامتی کی حکمت عملی کی مختلف بیرونی اور اندرونی جہتوں کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انتظامی ناکامیاں، کمزور فوجداری نظام انصاف اور اہم اُمور سے متعلق پالیسیوں کی عدم موجودگی وہ بڑے عوامل ہیں جن سے ملک کی داخلی سلامتی کے لیے سنجیدہ چیلنج پیدا ہوئے۔

انھوں نے اس موقع پر کہا کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے واقعہ نے انتہا پسندی کے نظریات کو اجتماعی طور مسترد کرنے کے لیے قوم کو متحد کیا۔

واضح رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر گزشتہ سال 16 دسمبر کو دہشت گردوں کے ایک مہلک حملے میں طالب عملوں سمیت 150 افراد کی ہلاکت کے بعد پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مشاورت کے بعد ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک قومی لائحہ عمل وضع کیا تھا۔

اسی قومی لائحہ عمل کے تحت ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاونین کے خلاف کارروائی کے علاوہ دہشت گردوں کو سزائیں دلوانے کے لیے فوجیں عدالتیں بھی قائم کی گئیں۔

وزیر داخلہ نے ’نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی‘ میں اپنے خطاب کے موقع پر کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت کی جانے والی کارروائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی اور امن و امان کی صورتحال میں مجموعی بہتری آئی۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں سے ملک میں معمول کی زندگی بحال ہوئی ہے، اس موقع پر وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ کراچی اور کوئٹہ میں بھی ماضی کی نسبت صورتحال میں بہتری آئی ہے۔

چوہدری نثار نے کہا کہ اگرچہ خطرات کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا تاہم انہیں کم سے کم کر دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’ہمیں محتاط رہنا ہوگا اور قیام امن کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے تمام تر کوششیں کرنا ہوں گی۔‘‘

XS
SM
MD
LG