رسائی کے لنکس

logo-print

بندوق کی جنگ میں کامیابی ملی لیکن ’نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں‘: وزیر داخلہ


وزیر داخلہ نے کہا کہ ’’(دہشت گرد) تو چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اسکول بند کریں، ہم اپنے اسپتال بند کر دیں ۔۔۔۔ یہ نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ ہم نے لڑائی کرنی ہے، ہم نے اُن کا مقابلہ کرنا ہے۔‘‘

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف عسکری جنگ میں کامیابیاں مل رہی ہیں لیکن اُن کے بقول بے جا تنقید اور مایوسی کی باتیں کرنے سے ’’نفسیاتی جنگ ہم ہار رہے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر کی جانے والی تنقید درست نہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے منظم حملے کے بعد کئی حلقوں خاص طور پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی طرف سے ناصرف انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے نفاذ بلکہ وزیر داخلہ چوہدری نثار پر بھی کڑی تنقید کی گئی تھی۔

باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد پہلی مرتبہ نیوز کانفرنس کرنے والے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں کی کارروائی کے بعد اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔

’’بندوق کی جنگ ۔۔۔۔ ہم جیت رہے ہیں، نفسیاتی جنگ ہم ہار رہے ہیں۔ جب ہم خود ہی تہیہ کر لیں کہ ہم نے خوف کی فضا پورے پاکستان میں عام کرنی ہے، ہم نے ایک دہشت برپا کرنی ہے تو ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی لائحہ عمل کے سبب شدت پسندی کے خلاف نمایاں کامیابی ملی ہے اور ان کے بقول اس پیش رفت کو عمومی طور پر سراہا جا رہا ہے۔

’’جب ہم حالت جنگ میں ہوں تو قوم کو مایوسی میں نہیں دھکیلا جاتا ہے۔ قوم کو اُمید دلائی جاتی ہے اور وہ دلائیں آپ، کیوں کہ حالات میں بہتری آئی ہے۔ یہ بار بار کہنا کہ سب تباہ ہے سب برباد ہے، انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر کام نہیں ہو رہا ہے۔ ایسا (کہنا) دشمنوں کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔‘‘

سلامتی کے خدشات کے باعث اسکولوں کی بندش پر اُن کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے دہشت گردوں کے مقاصد کو تقویت ملے گی اور اس ضمن میں وہ پنجاب حکومت سے بات کریں گے۔

’’(دہشت گرد) تو چاہتے ہیں کہ ہم اپنے اسکول بند کریں، ہم اپنے اسپتال بند کر دیں، ہم اپنے محلے، گلیاں اور بازار بند کر دیں اور چھپ کر کمروں میں بیٹھ جائیں۔۔۔۔ یہ نفسیاتی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ ہم نے لڑائی کرنی ہے، ہم نے اُن کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہاں کمزوریاں ہیں، اُن کا دور کرنا ہے۔‘‘

واضح رہے کہ باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد ملک کے مختلف حصوں خاص طور پر صوبہ پنجاب میں حکومت نے اسکول ایک ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ضروری ہے کہ خوف اور دہشت کی فضا کا خاتمہ کیا جائے۔

’’ہمیں ایک تو اُن کی بندوق کے خلاف لڑنا ہے اور دوسری اس دہشت اور خوف کی فضا کے خلاف لڑنا ہے۔ قوم کو متحرک ہونا پڑے گا۔‘‘

باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد ایک بار پھر ملک میں تعلیمی اداروں کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔

تاہم پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی طرف سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری قوت اور عزم سے جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG